محمود شام 207

17جولائی فیصلہ کن موڑ۔ کیا واقعی؟ ، محمود شام

آسمان سے برسنے والے میٹھے پانی کے ہلاکت خیزی اور تباہی میں بدلنے سے یہ تو ثابت ہوگیا کہ پاکستان میں اس وقت بد ترین حکمرانی ہورہی ہے۔ چاہے کسی بھی پارٹی کی حکومت ہو۔ بلوچستان میں تو بہت زیادہ بربادی ہوئی۔ وہاں کے وزیر اعلیٰ اور ان کے وزراء سب ناکام ہوگئے۔ سندھ میں بھی وزیر اعلیٰ اور وزراء آفت کے سامنے بونے لگے۔ کے پی کے میں پی ٹی آئی کی حکومت بھی بلوچستان، سندھ کی حکومتوں سے مختلف نظر نہیںآئی۔ پنجاب میں سیلاب میں شہریوں کی حفاظت کی بجائے حکومت اور اپوزیشن دونوں کی نظر میں ضمنی انتخابات کو اولیت حاصل رہی۔ آفرین ہے سیاسی کارکنوں پر خراب ترین موسم کے باوجود جلسوں کی رونق بڑھاتے رہے۔

سیاست۔ انسانی جان کی حفاظت پر غالب رہتی ہے۔ حالانکہ کائنات کا محور انسان ہے۔ سیاست کا مقصد پاکستان میں کیا ہے۔ چند خاندانوں کو کروڑوں پر بالادست رکھنا۔ ظاہر ہے کہ جب مقصد یہ ہو تو قانون سب کیلئے یکساں، زندگی سب کیلئے آسان کا اصول تو کارگر نہیں ہوسکتا۔ ضمنی انتخاب میں دونوں طرف کے امیدواروں پر نظر ڈال لیجئے۔ سارے جاگیردار، سردار۔ مسلم لیگ(ن) کے تو امیدوار وہی ہیں۔ جو پی ٹی آئی کے تھے۔ وہ اپنی وفاداریاں بدل کر ادھر آئے۔ کسی نظریے یا اصول کی بنیاد پر نہیں۔ کل جن کے اشارے پر پی ٹی آئی سے وابستہ ہوئے تھے،ان کے اشارے پر ہی پی ٹی آئی چھوڑ کر چلے گئے۔ دونوں طرف کے امیدوار سماج میں کوئی تبدیلی نہیں چاہتے۔

بظاہر جو کچھ ہورہا ہوتا ہے۔ جو میڈیا پر بہت نمایاں ہوتا ہے وہ وقتی ہوتا ہے۔ نیچے بہت کچھ ہورہا ہوتا ہے۔ جو حقیقت ہوتا ہے۔ سماج میں چلنے والی لہروں کا ردّ عمل ہوتا ہے جسے میڈیا یا تجزیہ کار قابل توجہ نہیں سمجھتا۔ اسے یونیورسٹیاں، تھنک ٹینکس یا درد مند دانشورمحسوس کرسکتے ہیں۔ سندھ میں ان دنوں لسانی فسادات کی بنیاد رکھی جارہی ہے۔ سوشل میڈیا پر کئی دنوں سے ایک خاص لسانی برادری کی دکانوں اور کاروبار کے بائیکاٹ کی مہم چلائی جارہی تھی۔ اس کے نتیجے میں ایک جواں سال پاکستانی قتل بھی ہوگیا۔ بڑی سیاسی پارٹیوں نے اس خطرناک رجحان کو روکنے کےلئے آواز بلند نہیں کی۔ نہ مذہبی سیاسی تنظیموں نے اس کی شدت محسوس کی۔ صرف عوامی ورکرز پارٹی نے عوام کو خبردار کرنے کی کوشش کی۔

بلوچستان میں ایک اعلیٰ فوجی افسر کا اغوا اور قتل بھی مملکت کے خیر خواہوں کے لئے اچھی خبر نہیں ہے۔ اس سے بلوچستان میں موجود بے چینی کا اظہار ہورہا ہے۔ چند ماہ قبل ایک پڑھی لکھی بلوچ خاتون کی خود کش حملے میں ہلاکت کے بعد بلوچستان اور بی ایل اے پر وفاقی ، صوبائی حکومتوں اور میڈیا کی جس خصوصی توجہ کی ضرورت تھی وہ نہیں دی گئی ۔ حالانکہ اس کے پس منظر میں بین الاقوامی گروہ اور ہمارے ہمسایہ ممالک کی دلچسپیاںبھی شامل ہیں۔ بلوچ نوجوانوں کے محسوسات بھی ہمارے ارباب حل و عقد کی نظر میں ہونے چاہئیں۔ ان واقعات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچستان کی اسمبلی، اس کے ارکان بلوچستان میں بے چینی دور کرنے کے تقاصے پورے نہیں کررہے ۔ اسمبلی میں ان موضوعات پر کبھی مباحثے ہوتے ہیں اور نہ ان کے پائیدار حل کے لئے کوئی تجاویز تلاش کی جاتی ہیں۔ ہمارے خطّے میں بہت کچھ ہونے والا ہے۔ سری لنکا میں انارکی کیسے سنبھلے گی۔ کیا اس کی لہر یں بھارت کے کسی حصّے کو متاثر کریں گی۔ مالدیپ میں کوئی تبدیلی لائیں گی۔

ادھرمشرق وسطیٰ میں بہت کچھ ہوتا نظر آرہا ہے۔ امریکی صدر کے دورے کے بعد مزید کتنے مسلم ممالک اسرائیل کو تسلیم کریں گے۔ سعودی عرب کیا یہ فیصلہ کرنے والا ہے۔میں یہ ذکر اس لئے کررہا ہوں کہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ اپنے نئے نقشے بنارہی ہے۔ امریکہ کسی ایک ملک میں اگر کوئی تبدیلی لاتا ہے تو اس اقدام کا دائرہ صرف اسی ملک تک محدود نہیں ہوتا ہے۔ بڑا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ امریکہ اور اس کے یورپی حلیف مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں چین کی اقتصادی یلغار روکنے کے لئے اقتصادی علاقائی حصار بنانا چاہتے ہیں۔ حالات علاقائی سطح پر جس سمت میں بڑھ رہے ہیں۔ اس میں تو یہی نظر آتا ہے کہ پاکستان میں موجودہ سیٹ اپ کو برقرار رکھا

جائے گا۔ اس کا تعین مقامی اور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کرتی ہے۔ عوامی ابھار اور انقلابی رجحانات عالمی حکمراں طبقوں کے فیصلوں کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ موجودہ سیٹ اپ کو برقرار رکھنے کے لئے آج پنجاب میں کس کی جیت ضروری ہے۔ اس کےلئے بین الاقوامی ، مقامی، انتظامی ، سیاسی، مالی کوششیں زوروںپر ہورہی ہیں۔ ایک طرف 12سیاسی جماعتیں ہیں، انتظامیہ ہے اور در پردہ کوششیں۔ دوسری طرف اکیلی پی ٹی آئی ہے۔ یقیناً بڑے جلسے ہوئے ہیں۔ عوام کو اپنے حقوق کا احساس دلایا گیا ہے۔ مڈل کلاس بہت متحرک ہوئی ہے۔ پنجاب میں کوئی بھی لہر ہو وہ پورے پاکستان پر اثر انداز ہوتی ہے۔ کیا عمران خان کی سیاسی تحریک نتیجہ خیز ہوسکتی ہے۔ ہمارے ہاں تاریخ تو یہ رہی ہے کہ وہی احتجاجی تحریکیں کامیاب رہی ہیں جن کا ساتھ اسٹیبلشمنٹ نے دیا ہے۔1969دیکھ لیں۔ 1977اور اب 2022کی تحریک عدم اعتماد۔

درد مند پاکستانی اسے ایک اور نظر سے دیکھتے ہیں اس عوامی ابھار میں جوش جذبہ بہت ہے۔ لیکن کیا کوئی پائیدارمجموعی تبدیلی بھی مقصود ہے۔ کیا پی ٹی آئی نے کوئی مبسوط پروگرام دیا ہے۔ کہ آئندہ دس پندرہ برس کی مسلسل کوششوں کے بعد کیسا ملک ان کی منزل ہے۔ معیشت، زراعت، تجارت، انصاف، صنعت اور قانون کی علمداری کیلئے کیا راستے اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ 17جولائی یقیناً ایک فیصلہ کن موڑ ہوگا۔ مگر اس کے بعد کیا ہے۔ اگر پی ٹی آئی کو دوبارہ وفاق اور پنجاب مل بھی جاتا ہے تو عزائم کیا ہیں۔ کیا پالیسیاں ہوں گی۔ بین الاقوامی طاقتوں کے اس وقت جو منصوبے ہیں۔ ان کا مقابلہ کرنے کیلئے آپ کے پاس کوئی ٹیم ہے۔

آج اتوار ہے۔ اپنے بیٹوں بیٹیوں۔ پوتے پوتیوں نواسوں اور نواسیوں سے تبادلہ خیال کا دن۔ آج آپ ان سے پوچھیں کہ وہ کیسا پاکستان چاہتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر مختلف مناظر دیکھ کر ان کے ذہن میں بھی ایک مثالی ملک کا تصور جنم لیتا ہوگا۔ وہ معلوم کریںاور پھر اپنے علاقے کی یونیورسٹیوںسے رابطہ کریں۔ اس مثالی ملک کے قیام کے لئے ان سے تحقیق کروائیں۔ آپ کے علاقے کے مسائل آپ کے وسائل سے حل ہوسکتے ہیں۔ پاکستان کو قدرت نے ایسے وسائل بھی دے رکھے ہیں۔ ہر پاکستانی میں اتنی اہلیت کار بھی ہے۔ ہماری صلاحیتوں کو پوری طرح استعمال نہیںکیا جاتا ۔ مثالی معاشرے کی جدو جہد طویل ہوسکتی ہے لیکن کامیاب ضرور ہوتی ہے۔

Leave a Reply