67

یومِ ماحولیات: ابھی سے صوبے کہنے لگے ہیں ہمارا پانی چوری ہوگیا، وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں ماحولیاتی تبدیلی پر کبھی توجہ نہیں دی گئی جبکہ کورونا وائرس کی طرح ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کسی سرحدی حدبندی سے آزاد ہے۔اسلام آباد میں پاکستان کی میزبانی میں عالمی یوم ماحولیات کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں ابھی سے صوبے کہنے لگے ہیں کہ ہمارا پانی چوری ہوگیا، پاکستان میں کبھی ماحولیاتی تبدیلیوں پر توجہ نہیں دی گئی، ہماری حکومت آنے سے پہلے تک پاکستان کی تاریخ میں صرف 64 کروڑ درخت لگائے گئے۔وزیر اعظم نے تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اس تقریب کی میزبانی کرنا پاکستان کے لیے اعزاز کی بات ہے، دنیا کو یہ احساس ہوچکا ہے کہ پاکستان ان چند ممالک میں سے ایک ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے پریشان ہے۔انہوں نے اس حقیقت پر افسوس کا اظہار کیا کہ ماضی میں دنیا نے آب و ہوا کی تبدیلی پر توجہ نہیں دی تھی، کچھ ممالک نے ایسا کیا لیکن بیشتر نے ایسا نہیں کیا اور پاکستان بھی ان میں شامل تھا۔

انہوں نے کہا کہ جب ہماری خیبرپختونخوا میں حکومت بنی اور ایک ارب درخت لگانے کا فیصلہ کیا تو اس سے پہلے کبھی کسی حکومت نے ایسا منصوبہ تشکیل دینے پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

عمران خان نے کہا کہ یوم ماحولیات کی میزبانی اعزاز کی بات ہے، ماحولیات کی بہتری کے لیے دنیا پاکستان کی کاوشوں کوتسلیم کررہی ہے، دنیا نے تسلیم کیا کہ پاکستان کو آئندہ نسلو ں کی فکر ہے۔انہوں نے دنیا کے امیر ممالک سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ امیر ممالک عالمی حدت سے نمٹنے کے لیے فنڈز فراہم کریں۔

عمران خان نے کہا کہ ایک طرف ہوس ہے اور دوسری طرف انسانیت اور جب ان کے مابین توازن برقرار نہ رہے تو کنزیومرازم کی وجہ سے انسانیت کو نقصان پہنچاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج ایک فیصد سے بھی کم ہے۔وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا حوالہ دے کر کہا کہ انہوں نے ماحولیاتی تبدیلی کے باعث آبی وسائل کی کمی کی طرف اشارہ کیا اور آج ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ملک میں صوبے ایک دوسرے پر پانی چوری کا الزام لگاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا 80 فیصد پانی گلیشیئر سے آتا ہے اور ماحولیاتی تبدیلی کے باعث ہمارے گلیشیئر متاثر ہور ہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کورونا وبا سے ایک فائدہ یہ ہوا کہ دنیا کو معلوم چل گیا کہ وہ ایک دوسرے سے الگ نہیں، صرف سرحد بند کردینے سے سارے معاملات ٹھیک نہیں رہتے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا وائرس کی طرح ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کسی سرحدی حدبندی سے آزاد ہے۔انہوں نے کہا کہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے بالخصوص وہ ممالک جن کے آبی وسائل گلیشیئر سے منسلک ہیں وہ زیادہ متاثر ہوں گے اور پاکستان ان میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ 10 ارب میں سے ایک ارب درخت لگانے کا منصوبہ کامیابی سے ہمکنار ہوچکا ہے جبکہ 9 ارب درخت لگانے کے لیے پوری قوم کو یہ احساس کرنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ نیشنل پارکس بنارہے ہیں ان کے لیے خصوصی گارڈز لگائے جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں