69

یمن کے جزیرے پر پراسرار طریقے سے بننے والا متنازع ایئربیس

جنگ زدہ مشرق وسطیٰ کے ملک یمن کے ایک جزیرے پر گزشتہ ڈیڑھ سال سے پراسرار طریقے سے تعمیر ہونے والے ایئربیس کے مرمتی کام نے خطے میں نئی پریشانی کو جنم دیا ہے۔یمن گزشتہ چند سال سے شورش اور جنگ سے متاثر ہے اور وہاں پر سعودی عرب کی قیادت میں متعدد اسلامی ممالک کی فوج حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے۔ایک ایسے وقت میں جب کہ یمن میں جنگ جاری ہے، تب وہاں کے ایک آتش فشاں جزیرے پر جو اہم سمندری راستے پر موجود ہے، وہاں ایک ایئر بیس کی تعمیر جاری ہے۔خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) کے مطابق یمن کے ضلع ذباب کے قریب ایشیا و افریقہ کو الگ کرنے والے سمندری راستے پر موجود جزیرے پر ایئر بیس کی تعمیر جاری ہے، یہ جزیرہ آتش فشاں پہاڑوں کے باعث معروف ہے۔

دو براعظموں کے سمندری راستے الگ کرنے والے آبنائے باب المندب کے کنارے پر بننے والی ایئربیس کو جغرافیائی حدود کی وجہ سے انتہائی اہمیت حاصل ہے۔مذکورہ ایئربیس پر گزشتہ ایک سال سے پراسرار طریقے سے تعمیراتی کام جاری ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ کسی بھی حکومت یا ملک نے یہ تسلیم نہیں کیا کہ وہ اڈے کی تعمیر کر رہے ہیں۔اے پی کے مطابق پراسرار طریقے سے تعمیر ہونے والے ایئربیس کے حوالے سے اب عالمی سطح پر تسلیم شدہ یمن کے حکومتی گروپ نے کہا کہ آتش فشاں جزیرے پر تعمیر ہونے والے اڈے کے پیچھے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) ہے۔تاہم حیران کن بات یہ ہے کہ یو اے ای نے واضح طور پر تسلیم نہیں کیا کہ وہ مذکورہ ایئربیس کی تعمیر میں ملوث ہے اور نہ ہی اماراتی حکام نے خبر رساں ادارے کو اس ضمن میں کوئی جواب دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں