شفیق اعوان 83

ڈیل نہ این آر او البتہ ’’بندوبست‘‘… ، شفیق اعوان

بالآخر حکومت نے سپریم کورٹ سے شہباز شریف کی بیرون ملک روانگی کی خلاف درخواست واپس لے کر ’’این آر او نہ دوں گا‘‘ کے بیانیے کی نفی کر دی۔ جہانگیر ترین کے لیے بھی اس گرمی میں اسلام آباد کی ٹھنڈی ہوا کی کھڑی کھل چکی ہے اور لیکن اسے ڈیل نہ سمجھا جائے اور نہ ہی این آر او کیونکہ تمام فریق بشمول وزیر اعظم اور اپوزیشن اس کی تردید کر چکے ہیں۔ البتہ ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں کچھ حکومتی حلقے اسے باہمی ’’بندوبست‘‘ کا نام دے رہے ہیں۔ اس بندوبست کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی جا رہی ہے کہ اقتدار کے ایوانوں سے عالمی سیاست کے تناظر میں خطے میں یورپی یونین طرز کا بلاک بنانے کی بھی باتیں ہو رہی ہیں جس سے علاقائی تنازعات کے حل کے علاوہ معاشی تعاون بھی مقصود ہو گا۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ کچھ عرصہ قبل چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی اس حوالے سے بھارت سے تجارت اور مسئلہ کشمیر کے حل کا عندیہ دے چکے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اپوزیشن اور حکومت کا ایک پیج پر آنا ضروری ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس کے لیے سیاسی تلخی ختم کرنے کے لیے ادارے بھی متحرک ہیں البتہ مسلم لیگی کہتے ہیں کہ اسے شہباز شریف کی بیرون ملک روانگی کی حکومتی درخواست سے نہ جوڑا جائے۔ علاقائی بلاک بنانے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ بچوں کا کھیل نہیں اس پر قومی اتفاق رائے ضروری ہے۔

واپس آتے ہیں ملکی سیاست کی طرف جہاں پر دونوں اطراف اپنے اپنے راگ الاپ رہے ہیں۔ کچھ اعلیٰ حکومتی حلقے کہہ رہے ہیں کہ اس بندوبست کو حکومتی کمزوری یا بجٹ منظوری سے بھی نہ جوڑا جائے۔ بجٹ کی منظوری پر بھی سٹہ کھل گیا ہے۔ کہا جا رہا کہ بجٹ ہی فیصلہ کرے گا کہ سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا تھا کہ اگر بلیک میل کرنے کی کوشش کی گئی تو عمران خان انتہائی اقدام کی طرف بھی جا سکتے ہیں۔ اسی طرح مڈ ٹرم انتخابات کی بھی باتیں ہو رہی ہیں۔ لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل کچھ سیاستدانوں کا بھی انتظام ہو گا تا کہ انتخابات کے حوالے سے کچھ سیاستدانوں کو مائنس رکھ کر مطلوبہ نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ ماضی میں ڈکٹیٹر انتخابات کا اعلان کر کے تمام وسائل کے باوجود بے نظیر بھٹو کے ہاں ڈلیوری کے وقت کا صحیح اندازہ نہ لگا سکے تھے اور نتیجتاً بے نظیر نے انتخابات میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی۔ اب بھی ’’کسی‘‘ کو ڈرامائی انداز میں علاج کے لیے مطلوبہ وقت پر باہر جانے کی اجازت دینے کی منصوبہ بندی جاری ہے۔ لیکن اس طرح کے کچے کاموں کے بجائے کارکردگی کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

https://web.facebook.com/v2.12/plugins/quote.php?app_id=345783902553466&channel=https%3A%2F%2Fstaticxx.facebook.com%2Fx%2Fconnect%2Fxd_arbiter%2F%3Fversion%3D46%23cb%3Df2eef6b5e9609ac%26domain%3Dwww.naibaat.pk%26origin%3Dhttps%253A%252F%252Fwww.naibaat.pk%252Ff12f5f0103e76b4%26relation%3Dparent.parent&container_width=781&href=https%3A%2F%2Fwww.naibaat.pk%2F03-Jun-2021%2F44758&locale=ur_PK&sdk=joey

کچھ حکومتی ذمہ داران کہتے ہیں کہ مافیا کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ انہوں نے نظام کو آکٹوپس کی طرح جکڑا ہوا ہے اور عمران خان کی مافیا کے خلاف جنگ سے بھی کچھ حاصل نہ ہو سکا۔ بلکہ حکومت اپنے فلاحی ایجنڈے سے ہٹ کر غیر متعلقہ معاملات میں الجھتی چلی گئی۔ ان کے بقول اس کا سارا کریڈٹ غیر منتخب غیر سیاسی ٹیکنوکریٹ مشیران کو جاتا ہے جنہوں نے غلط مشورے دے کر پی ٹی آئی کو سیاسی دلدل میں پھنسا دیا ہے اور انہی کا کارنامہ ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر سے ہی حکومت کی مخالفت شروع ہو گئی اور جہانگیر ترین گروپ وجود میں آ گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تین سال ہو چکے ہیں اور ہمیں توجہ ناراض دوستوں کو منانے اور اگلے الیکشن پر مرکوز رکھنی چاہیے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ کچھ سیاسی دوستوں کی مداخلت سے جہانگیر ترین سے بھی معاملات طے ہونے کے قریب ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ علی ظفر کی تحقیقات میں بھی شہزاد اکبر کی جہانگیر ترین کے خلاف الزامات سے زیادہ انکی مہم جوئی نظر آئی۔ اس بات کی بھی تحقیق ہونی چاہیے کہ 50 شوگر ملوں کو چھوڑ کر صرف جہانگیر ترین کو نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے۔ شہباز شریف پر حکومتی ہاتھ ہولا رکھنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ’’سہولت کاری‘‘ سے اپنے معاملات سیدھے کرتا ہے تو حکومت اس میں ایک حد تک ہی مخالفت کر سکتی ہے ویسے بھی معاملات عدلیہ میں زیر سماعت ہیں تو غیر ضروری پھرتی کے بجائے ان کے فیصلوں کا انتظار کرنا چاہیے۔


شہباز شریف معاملات طے کرنے اور گفت و شنید کے ماہر ہیں اور کوفی عنان کی طرح کوئی نہ کوئی رستہ نکال لیتے ہیں۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ میاں شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ سے نکال دیا گیا اور توہین عدالت سے بچنے کے لیے ای سی ایل سے نام نکالنے کے لیے بھی رستے تلاش کیے جا رہے ہیں اور شنید ہے کندھا پھر عدلیہ کا ہی استعمال کیا جائے گا۔ پہلے ایک درخواست دینا پڑے گی اور اس کے بعد دھیرے دھیرے سب اچھا کی رپورٹ، اب تو ترکی نے بھی پاکستانیوں پر بھی قرنطینہ کی پابندی لگا دی ہے۔ اس لیے شاید اگلا پڑاؤ قطر یا کوئی اور ملک ہو۔

لیگی حلقے بھی پارٹی میں دو متضاد بیانیے خاص طور پر شاہد خاقان عباسی اور مریم نواز کی جارحانہ پالیسی اور بیانات کی وجہ سے پریشان ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ ہمیں اب اسٹیبلشمنٹ سے الجھنے کے بجائے مثبت رویہ اپنانا ہو گا تا کہ اگلے انتخابات پر توجہ مرکوز کی جا سکے۔ ان کا یقین تھا کہ جتنی مرضی مزاحمت کر لیں آخر کار شہباز شریف کا مفاہمتی بیانیہ ہی کام آئے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کی بجٹ کے بعد جلد بیرون ملک روانگی عین ممکن ہے۔

ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ ذمہ دار حلقوں نے شفاف اور مداخلت سے پاک انتخابات کی گارنٹی بھی دے دی ہے اور یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ اس حوالے سے تمام قانون سازی باہمی مشاورت سے ہو گی۔ بظاہر تو یہ ساری بات دیو مالائی کہانی لگتی ہے لیکن شہباز شریف کی معاملات کو سلجھانے اور ٹیبل ٹاک کی مہارت سے بہتری کی امید کی جا سکتی ہے۔

شہباز شریف کے دورے کا ایک ہی مقصد ہو گا کہ معروضی حالات میں نواز شریف کو اپنے بیانیے پر رضامند کر لیں۔ اب اس الجھن کی سلجھن کی کنجی نواز شریف کے پاس ہے، دیکھتے ہیں وہ کن شرائط پر اور کیا فیصلہ کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں