57

چین میں کورونا کے پھیلاؤ میں تیزی، لاکھوں افراد لاک ڈاؤن میں رہنے پر مجبور

ہفتے کے روز چین میں مئی کے بعد سب سے زیادہ کورونا وائرس کے مثبت کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ حکام کی جانب سے مہلک وائرس کے خلاف انتہائی سخت پالیسی کے تحت لاکھوں لوگ لاک ڈاؤن میں رہنے پر مجبور ہیں۔ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق چین دنیا کی آخری بڑی معیشت ہے جو اب تک سخت لاک ڈاؤن، طویل قرنطینہ اور بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کا استعمال کرتے ہوئے وبا کو ختم کرنے کے ہدف کا تعاقب کر رہی ہے، جبکہ اس حکمت عملی سے معیشت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے، چین میں ہفتے کے روز 450 افراد میں مقامی انفیکشن رپورٹ ہوا جو کہ ایک روز قبل سامنے والے 432 کیسز سے زیادہ ہیں۔سامنے آنے والے زیادہ تر مثبت کیسز ایسے تھے جن میں وائرس کی کوئی علامات سامنے نہیں آئی تھیں، کورونا کیسز کی بڑھتی ہوئی لہر کی وجہ سے اس ہفتے ملک کے کچھ حصوں میں نئی پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔شمال مغربی گانسو صوبے کے دارالحکومت لانژو میں 44 لاکھ افراد کو گھروں میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ صوبہ انہوئی کی ایک کاؤنٹی جمعہ سے لاک ڈاؤن میں چلی گئی۔

ادھر جنوبی گوانگسی کے علاقے بیہائی نے ہفتے کے روز بھی دو اضلاع کے کچھ حصوں میں لاک ڈاؤن کا اعلان کیا جہاں 8 لاکھ سے زیادہ افراد آباد ہیں۔

کورونا کی روک تھام کے لیے پابندیوں کے اعلان سے متعلق حکومتی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ فی الوقت بیہائی شہر میں وبا کی روک تھام اور کنٹرول کی صورتحال مشکل اور پیچیدہ ہے جبکہ کمیونٹی میں وائرس کی غیر علاماتی منتقلی کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہے۔

ہفتے کے شروع میں وسطی ہینان صوبے میں ووگانگ میں صرف ایک کورونا مثبت کیس رپورٹ ہونے پر 3 روز کے لیے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا تھا۔

وائرس کی تیزی سے پھیلنے والی ذیلی قسم ‘اومیکرون’ چینی حکام کے لیے ایک بڑا چیلنج رہی ہے جبکہ حکام کووِڈ 19 پابندیوں سے ہونے والے معاشی نقصان کو کم سے کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

چین میں ابتدائی طور پر کورونا پھیلنے کے بعد سے دوسری سہ ماہی کی سب سے سست شرح نمو رہی جبکہ جی ڈی پی میں سالانہ بنیاد پر صرف 0.4 فیصد اضافہ ہوا۔

Leave a Reply