نعیم مسعود 56

چھوٹی سی بات کا فسانہ بن جاتا ہے! نعیم مسعود

جانے لوگ اُن کے پیچھے ہاتھ دھو کر کیوں پڑ جاتے ہیں، اُن کا قصور کیا ہے؟ بس یہی نا، کہ اُنہیں اپنے مشن سے محبت ہے، اُنہوں نےچوری کی نہ ڈاکہ ڈالا،قصور صرف یہ کہ ، وہ بہادروں کی طرح اپنی زبان کنٹرول کرنے سے قاصر ہیں۔ جب اُنہوں نے نے اپنے پتے کھیلے چھاتی سے لگا کر کھیلے داد دینے کے بجائے مخالفین نے کہا اُنہیں کھیلنا نہیں آتا۔ یہ اس قدر ناقابلِ فہم الزام ہے، جس پر تبصرہ بھی وقت کا زیاں سمجھئے!

اُن کے بلند و بالا دعوؤں کو ہمالیہ اور کے-ٹو کہنے کے بجائے لوگوں نے شور و غل کہا تو کبھی بے وقت کی راگنی، حسد میں کچھ لوگ یہ کہتے رہے ،اُنہوں نے تین نکاتی اس قومی ایجنڈے میں بھی کیڑے نکالے جس سے اتفاق انیس صد سنتالیس سے تاحال سبھی سیاسی سورماؤں کا رہا ہے: (1) کشمیر، (2) جوہری توانائی اور (3) ملکی سلامتی۔

اجی، اُن کی شیریں مقالی سے اس کی علامت نگاری و تصور نگاری تک کو کچھ ناسمجھ سیاسی تقریریں قرار دیتے اور کہتے، یہ بارودی تقریریں وہ بارودی سرنگیں بچھا رہی ہیں جن کے نتائج ملک و ملت، نوجوان نسل اور عالمی تعلقات کیلئے جنگوں سے زیادہ مہلک ہیں۔ چھوٹی سی بات یہاں ’’آف دی ریکارڈ‘‘ سمجھنے والی یہ کہ،ہم ایک عالمی ادارے کے پاس مدد یا قرض کیلئے جاتے ہیں، وہ جواب دیتا ہے، آپ کے ہاں کرپشن ہے، سیاست دان آپے سے باہر ہیں۔ بےروزگاری عروج پر، انسانی حقوق کی پاسداری صفر ، زیادہ بچے اسکول سے باہر، چائلڈ لیبر ، کورٹ کچہری انصاف فراہم کرنے سے قاصر، سبسڈی سیاسی چال ہے، اسٹیٹ بینک دیوالیہ ہونے کا کہہ رہا ہے، زرخیزیوں کے باوجود گندم کی کمی یا اسمگلنگ ہے اور چینی کے بحران ہیں۔ مذہبی جنون کا توڑ پھر اسپتالوں میں کیمونٹی میڈیسن اور پبلک ہیلتھ کا تصور نہیں، کسٹم احکام منہ زور گھوڑے ہیں۔ یونیورسٹیوں میں پلیجرزم، سڑکوں میں ٹھیکیدار ناقص میٹریل کے استعمال سے کماتا ہے، بجلی آپ بنا نہیں پاتے، نیب تنقید کا سامنا کرتا ہے، رشوت اور کک بیکس فیشن ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

آپ جواب دیتے ہیں، فلاں چیز بہتر ہے، فلاں بہت بہتر ، فلاں میں کوشش کر رہے ہیں اور فلاں خرابی قابو میں نہیں آرہی سو آپ کی مدد درکار ہے۔ اس کے جواب میں عالمی ادارہ کہتا ہے۔ ’’یہ دیکھئے آپ کا مین میڈیا و سوشل میڈیا ، ٹاک شوز اور ولاگز یہ یہ انکشافات کررہے ہیں۔ آپ جواباً کہتے ہیں ، جناب یہ میڈیا تو شتر بےمہار ہے، فلاں بلیک میلر ، فلاں غیر ذمہ دار ہے۔ اس کے جواب میں عالمی ادارہ کہتا ہے ‘‘ یہ لیجئے آپ کے سابق وزیراعظم اور یہ تین دفعہ کے سابق وزیر اعظم کے ارشادات ہزاروں کے مجمعے کی تائید میں یہ ہیں، اور یہ ہے ریکارڈ۔ اب آپ کیا کہتے ہیں؟ ’’ آہ ! پھر کسی نے کیا کہنا ہے؟ ہمارے رشحات قلم اور شعلہ بیانیاں کیسے کھوٹے پیسے کی طرح واپس آتی ہیں۔ کیا ہم نے کبھی بطورِ دانشور یا بحیثیت اسٹیٹس مین یا سیاست کار یہ سوچا ہے؟

اچھا، چھوڑئیے شاید یہ سب چھوٹی سی بات کا فسانہ بن گیا۔ دکھ تو دراصل یہ کہ سرکار نے گر کبھی صدارتی نظام کا در وا کرنے کی کوشش کی تو جمہوریت ہی کے گلے پر چھُری آئی عوام کا کیا بگڑا؟ اپنے محسن مقتدر سے گر اسمارٹ محسن کشی پر اترا تو کیا ہے، پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں نہیں دے سکے تو کون سی قیامت آگئی؟ اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کا کیڑا نکال کر اسے عالمی ادارے کے تابع کردیا تو بین الاقوامیت ہی کا خیر مقدم کیا ناں، جب دیگر نظام بھی ناپائیدار ٹھہرے تو تھوڑی سی فاشزم کو ہوا دینے سے کیا ہے؟ یو ٹرن سے جدید نفسیاتی حربے کو بروئے کار لانا کون سا جرم ہے یا سوشل میڈیاکے آرٹ کو استعمال کرنے میں کیا حرج ہے۔ کہتے تھے کہ اُس کو سیاست نہیں آتی ، کوئی کہتا وہ کھلاڑی ہے، کوئی کہتااناڑی ہے، کوئی کہتا2011 سے پہلے اس کی سیاسی مقبولیت کہاںتھی وہ جو فرماتے تھے مودی آئے گا اور مسائل حل ہو جائیں گے انہوں نے دیکھا نہیں کہ مودی نے 35اے اور 370کو سبوتاژ کیا تو وہ سب مسئلے ہی حل نہیں ہوگئے؟ جانے لوگ اُس کی اقوام متحدہ والی تقریر کی بہادری کو کیوں بھول گئے ،گر اُس نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر اپوزیشن کو غصے میں کہہ دیا کہ’’اور میں بھارت سے جنگ چھیڑ دوں؟‘‘یہ سب لیڈر شپ نہیں تو کیا ہے؟ سپریم کورٹ نے اگر ان کے ڈپٹی اسپیکر اور سربراہ مملکت اور انہیں امریکی خط کی پاداش میں عدم اعتماد کا ووٹ نہ کرانے کو غیر آئینی گردانا ہےتو کیا ہوسکتا ہے؟ انہوں نے سچ ہی تو بولا تھا کہ حکومت سے نکلا تو ہاتھ سے نکل جاؤں گا، مطلب زیادہ خطرناک ہو جاؤں گا۔ بھارتی آئینی شق 35 اے کشمیریوں ہی کومستقل رہائشی اور کشمیر میں خصوصی حیثیت سے نوازتی تھی، اور 370(1954) کے تحت بھارتیوں کو بھی مقبوضہ کشمیر میں منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کے حقوق، ووٹ کا حق، مخصوص ہائیر ایجوکیشن اور امور صحت کے حقوق نہیں تھے، مگر اب دھڑا دھڑ ڈومیسائل بنائے جارہے ہیں کہ کشمیریوں کی اکثری کو اقلیت میں بدلا جاسکے۔ لیکن اُس کا کیا قصور اُس نے تو کبھی ریاست مدینہ، کبھی ملائشیا سسٹم، کبھی چائنہ ماڈل تو کبھی کوئی اور ماڈل لانے کی خواہش کا تو اظہار کیا، بادشاہوں نے طیارے بھی دیئے کہ انہوں نے پاکستان میں ان کی گاڑی خود چلائی وہ الگ بات ہے کہ واپسی کے سفر سے قبل ہی جہاز واپس مانگ لیا۔ کیا ہوا اگر اس نے کہا کہ خودکشی کر لوں گا آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاؤں گا پھرچلا گیا تو کسے نہیں معلوم ان کی طبیعت یو ٹرن والی تھی اس میں نالاں ہونے کا عنصر کہاں نکلتا ہے؟ کیا ہوگا اگر ضمنی الیکشن میں کامیابی نہ ملی اُن کی دلبری اور احتجاج کا سکہ تو چلتا ہے، لوگ تو ایسے ہی چھوٹی سی بات کا فسانہ بنا لیتے ہیں!

Leave a Reply