169

پنجاب کے ضمنی انتخابات؛ ووٹوں کی گنتی کے بعد نتائج آنے کا سلسلہ جاری

لاہور: پنجاب میں صوبائی اسمبلی کی 20 نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں پولنگ کا وقت 5 بجے ختم ہوگیا، ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور بتدریج غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ پانچ بجے سے قبل پولنگ اسٹیشن میں داخل ہونے والے ووٹرز نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا جبکہ مقررہ وقت کے بعد آنے والے ووٹرز کو پولنگ اسٹیشن میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔

ان 20 نشستوں میں لاہور کی 4، راولپنڈی، خوشاب، بھکر، فیصل آباد، شیخوپورہ، ساہیوال، ملتان، بہاولنگر،لیہ  کی ایک ایک، جھنگ کی 2، لودھراں میں 2، مظفر گڑھ میں 2 اور ڈیرہ غازی خان کی ایک نشست شامل ہے۔

اگر صرف لاہور کی 4 نشستوں کی بات کی جائے تو حلقہ پی پی 158 میں ن لیگ کے رانا احسن شرافت اور پی ٹی آئی کے اکرم عثمان کا مقابلہ ہوگا، پی پی 167 میں ن لیگ کے نذیر چوہان پی ٹی آئی کے شبیر گجر کے مدِ مقابل ہیں، پی پی 168 میں ن لیگ کے اسد کھوکھر کا پی ٹی آئی کے نواز اعوان سے مقابلہ ہوگا، پی پی 170 میں ن لیگ کے امین ذوالقرنین پی ٹی آئی کے ظہیر کھوکھر کے مدمقابل ہوں گے۔

20 نشستوں کیلیے 175 امیدوار مدمقابل 

صوبائی اسمبلی کی ان 20 نشستوں پر مجموعی طور پر 175 امیدواروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے جن میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کے امیدوار نمایاں ہیں۔ ان حلقوں میں رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد 45 لاکھ 79 ہزار 898 ہے۔

پولنگ کے لیے 3 ہزار 131 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جن میں سے 1900 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے، ضمنی انتخاب میں امن و امان کے پیش نظر صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کو پنجاب میں اپنی برتری برقرار رکھنے کیلئے 20 میں سے 9 نشستیں جیتنا ضروری ہے۔

یاد رہے کہ 20 مئی کو الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی میں حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ کا ووٹ دینے والے تحریک انصاف کے منحرف ارکان کی رکنیت ختم کردی تھی۔

Leave a Reply