70

ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دینے کا معاملہ، نظر ثانی درخواست پر کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ کابینہ نے کالعدم قرار دی جانے والی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی نظر ثانی درخواست پر وزارت داخلہ کے تحت کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دے دی۔اسلام آباد میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کے ہمراہ کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا ریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ٹی ایل پی کی نظرثانی کی درخواست کا جائزہ لیا گیا۔

علاوہ ازیں انہوں نے کابینہ کے اجلاس سے متعلق تفصیلات بتائیں کہ پچھلے دس برس میں 226 کابینہ کے اجلاس ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے 67 اجلاس اور مسلم لیگ (ن) نے 3 سال میں صرف 23 اجلاس کیے۔فواد چوہدری نے کہا کہ مسئلہ فلسیطن اور کشمیر پر وزیر اعظم نے وزیر خارجہ اور ان کی ٹیم کو سراہا ہے۔انہوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کو فلسطین کے مسئلے پر قائدانہ کردار پر خراج تحسین پیش کیا گیا۔فواد چوہدری نے بتایا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) سے منسلک اور سرمایہ کاری کی نیت سے آنے والے چینی باشندوں کے لیے ویزا کا خصوصی نظام منظور کیا گیا ہے۔

فواد چوہدری نے بتایا کہ پاک افغان ٹرانزٹ معاہدے میں 6 ماہ کی توسیع کی منظوری دی ہے۔انہوں نے بتایا کہ بوسنیا کو کورونا سے بچاؤ پر پاکستان معاونت کرے گا۔علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں ترکی اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی تعریف کی گئی۔انہوں نے بتایا کہ کابینہ کمیٹی ادارہ جاتی اصلاحات کے 29 اپریل کے فیصلوں کی توثیق کی۔

اس موقع پر اسد عمر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ میں معاشی شرح نمو میں بہتری کے بنیادی محرکات پر گفتگو ہوئی اور دو چار چیزیں آپ کے علم لانا چاہتا ہوں جن کی وجہ سے معیشت میں نمایاں بہتری آئی۔ان کا کہنا تھا کہ جس سال میں دنیا کی بڑی بڑی معیشتیں مشکلات کا شکار تھیں، جب کووڈ-19 کا اتنا بڑا چیلنج تھا تو ہمارے بہتر نتائج کی بنیاد کیا ہے اور اس کی بنیادی وجہ وزیراعظم کا اپنے ملک کے کمزور اور غریب طبقے کو بچا کر رکھنے کا فیصلہ تھا اور کورونا کا دفاع ایسے کرنا ہے کہ جس سے غربت میں بے تحاشا اضافہ اور لوگوں کا روزگار بند نہ ہو جائے۔انہوں نے کہا کہ ہماری کوششوں کے باوجود بھی لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن باقی دنیا کی نسبت ہم بہتر رہے اور ہمارا کمزور طبقہ اس کے اثر سے جلد نکل آیا اور این سی او سی میں توازن کے ساتھ چلنے کی حکمت عملی بنائی گئی اور اگر آپ خطے خصوصاً مغربی اور مشرقی ہمسایہ ممالک سے مقابلہ کر کے دیکھیں تو ہم اس بحران سے نکلنے میں کامیاب رہے اور بڑے اداروں نے گواہی دی اس وبا کے دوران پاکستان میں کام بہتر ہوا ہے۔وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ انتہائی چھوٹے دورانیے میں احساس پروگرام شروع کیا گیا جو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام چلایا گیا جس میں پاکستان کے ہر تیسرے گھر میں یہ پیسہ پہنچا اور یہ غریب لوگوں کو دیا گیا تو یہی پیسہ واپس معیشت کا حصہ بنا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں