110

وہ ایک تھپڑ جسے تو گراں سمجھتا ہے، انجنیئر افتخار چودھری

ویسے کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ لڑائی میں جو تھپڑ نہ مارا جائے اسے بعد میں اپنے منہ پر مار لینا چاہئے
یہ تھپڑ ایسے ہی نہیں مارے جاتے
دنیا میں سب سے پیارا رشتہ ماں باپ کا ہوتا ہے فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ نجی چینیل وقفے کے دوران پیپلز پارٹی کے جھرلو زدہ ایم این اے 249 قادر مندو خیل نے مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے والد کو برا بھلا کہا۔یہ ایک ایسا لمحہ ہوتا ہے جب انسان اپنے آپ ہر قابو نہیں رکھ سکتا
یقینا تھپڑ مارنا بری بات ہے لیکن جب عزت غیرت کا وقت آئے تو تھپڑ مارنا ہی پڑتا ہے ۔ایک عورت کو برا بھلا کہنا اور وہ بھی ایک شو میں اس سے بڑھ کر بزدلی اور کیا ہو گی ۔

فردوس عاشق اعوان ٹی وی پروگرام میں


ٹاک شو میں میں نے ایک بار ن لیگی رکن اسمبلی کے ساتھ گرما گرمی ہو گئی تھی مجھے علم تھا کہ میرے ساتھ وہاں کیا ہوا تھا جب بحث چھڑی تو اس کا غنڈہ ڈنڈہ لے کر آ کر مجھ پر حملہ آوار ہوا اللہ کا کرنا ایسا ہوا وہ ٹھوکر کھا کر گر گیا جس سے جان بچ گئی مجھے غصہ آیا اور پھر وہی کچھ کہا جو فردوس عاشق نے کہا اور اس پر کپ مارا اب اگر یہ کہیں کہ پی ٹی آئی والے گالی دیتے ہیں تو پھر ماتم۔ہی کیا جاسکتا ہے
قارئین
ٹاک شوز میں بیٹھے ہوئے لوگ بھی آپ ہی کی طرح کے انسان ہوتے ہیں ۔تھوڑی دیر کے لیے آپ فردوس بہن کی جگہ ہوتے تو کیا سوچتے ایک عورت جو گھر بار چھوڑ کر کارزارِ سیاست میں کودی اس مرد کے حاوی شدہ معاشرے میں گھر سے نکلی رات دن جلسے جلوس کرتی عورت جسے اکثر نے ہوس بھری نگاہوں نے دیکھا اور وہ پھر بھی حق کے لیے باہر نکلی کیا اسے عزت نہیں ملنی چاہئے ۔کیا یہ سیاست صرف مردوں کا حق ہے ۔میں نے پی ٹی آئی کی خواتین کو دیکھا کہ کس طرح وہ جدوجہد کے لیے نکلیں ۔سلام ان مائوں بہنوں کو جنہوں نے فاطمہ جناح کی طرح اپنے بھائیوں کا ساتھ دیا ۔لیکن کیا ہوا ہر مسلم لیگی نے انہیں دھرنے کی بری عورتوں کا خطاب دیا ۔یہ اس نجی چینل کی سازش ہے جہاں میزبان نے ایک پلان کر کے ایک ایسی ویڈیو بنوا لی جو اسے لاکھوں روپے دلوائے گی دیکھ لینا یہ اس ویڈیو کے کاپی رائٹ لے کر مال بنائے گا ۔میں ان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ آپ کے کیمرہ مینوں کو کس نے حق دیا کہ آپ وقفے کا اعلان کرتے ہو اور ویڈیو بنانا جاری رکھتے یو پیمرا کو اپنے رولز میں واضح کر دینا ہو گا کہ کوئی چینیل وقفے کے دوران کی ویڈیو نہیں بنائے گا اور اگر بنائے گا تو اسے لیک نہیں کرے گا ۔میزبان کو دیکھئے کس سکون سے ویڈیو بنوا رہا ہے اسے یہ موقع بھی کاروباری موقع لگا اور اس نے کاروبار کر لیا ۔
پیپلز پارٹی نے ،،ہے جمالو،، کی دھن میں کتنے لوگوں کی پگڑیاں اچھالیں یہ تاریخ کا حصہ ہے
بیٹیاں شیر اور دلیر ایسی ہی ہوتی ہیں جو اس مردوں کے معاشرے میں جھانسی کی رانیاں بنتی ہیں ۔ہماری عورتیں سسرال میں گالیاں کھاتی ہیں مرد سب سے پہلے اسے اس کے باپ کی گالی دیتا ہے اسے علم ہے کہ عورت کے کیے اس کا باپ دیوتا ہوتا ہے وہ اس سے پیار کرتی ہے ۔کمزور عورتیں رو کر گزارہ کرتی ہیں دلیر عورتیں احتجاج کرتی ہیں اور مزید دلیر عورتیں فردوس عاشق اعوان بنتی ہیں
فردوس عاشق نے بہت اچھا کیا اس نے بد تمیز بد لحاظ مندو خیل کے منہ پر تھپڑ نار کر در اصل یہ بتایا کہ بیٹی مرے ہوئے باہ کے کیے اس جابر معاشرے سے کٹ جاتی ہے مر جاتی ہے
آئیے اپنے دائیں بائیں دیکھئے ۔کیا یہ ظلم نہیں ہو رہا ۔کیا مرد اپنے باپ کو گالی دینے ہر قتل نہیں کرتے اگر ایسا ہے جسے غیرت کیا جاتا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فردوس کی طرح بیٹیاں اپنے باپ کے لیے غیرت نہیں کھا سکتیں۔آج سب طارق جمیل بن جائو اور دو درس اخلاقیات کے لیکن عورت کو مزید گالی دینے سے پہلے سوچ لینا تم بھی ایک بیٹی کے باپ ہو آپ کو گالی سننے کے بعد اٹھ کھڑی ہو گی
فردوس عاشق نے تھپڑ مار کر در اصل اس معاشرے میں علم بغاوت بلند کیا ہے کہ کوئی مرد اس کے باپ کو گالی نہیں دے سکتا ۔
کیا انصاف ہے کہ آپ کے باپ کو کوئی بھرا بھلا کہے تو آپ مرد ہوتے ہوئے اس کی گردن مار دیں اور آپ اگر عورت ہیں تو برداشت کریں
میرے ایک دوست سردار نجیب الرحمن ہیں انہوں نے ایک دن زبردست پوسٹ کی کہنے لگے ہم لوگ جو بیٹیوں کو بوقت رخصتی کہتے ہیں کہ جائو اللہ کے حوالے اب وہاں سے جنازہ ہی اٹھے گا ان کا کہنا تھا یہ استحصال کی سب سے گندی شکل ہے ساری زندگی موت کا شکار کر دیتی ہے یہ نصیحت اور بیٹیاں سسرال میں اس جملے کی زد میں ا کر کبھی چولہے کی آگ کا شکار ہو جاتی ہیں اور کبھی ہھندہ ڈال کر مر جاتی ہیں ۔سچ کیا دوست نے آج تک بہوویں ہی چولہے جا شکار ہوتی ہیں کوئی ساس کیوں نہیں جلی ۔موقو مناسب ہے بس اتنا کہوں گا بہو کو بیٹی کی نظر سے دیکھو اور بیو بھی سسر کو باپ سمجھے
یہ بات تو ویسے ہی سامنے ا گئی اصل ایشو تھپڑ کا ہے ۔یی در اصل ایک تھپڑ یے جو عورت کو ہزار سال سے استحصال سے نکلنے کا اعلان یے
بد کلام مردوں کو اب اپنے گالوں پر شیلڈ لگانی چاہئے ناسک سے اوپر ایک اور شیلڈ کہ آج کی عورت نے تہیہ کر لیا ہے کہ وہ اپنی عزت نفس کا دفاع کرنے کے لئے ،،ماں گجرانی،، بن چکی ہے جھانسی کی رانی کا روپ دھار چکی ہے
ویسے مجھے ایک سوال مندو خیل سے بھی پوچھنا ہے کہ تمنکس قدر گر گئے تھے کہ ایک عورت کو اس حد تک لے گئے جہاں اس کا پیمانہ ء صبر چھلک پڑا
آج مجھے بے نظیر کے ان آنسوؤں کو بھی یاد آ رہی ہے کہ جب اسمبلی میں اسے ،،پیلی ٹیکسی ،، کہا گیا
اس نے بھی تھپڑ نارا تھا اور کسی کو ،،بلو دے گھر،، بھیجا تھا یہ بھی سمجھ لینا وہی بے نظیر والا تھپڑ ہے
اس مرد کے معاشرے نے فاطمی جناح جیسی عورت ہر بھی تہمت لگائی اس کی تصویر جو جتیا کے گلے میں لٹکایا ۔۔آج یہ فاطمہ جناح کا بدلہ یے جس بھٹو نے اور ولی خانیوں نے اس پر تہمت باندھی در اصل اسی فاطمہ جناح نے آپ کے منہ پر تھپڑ مارا ہے ۔
میں آج ثناء خوان تقدیس مشرق کو بتانا چاہتا ہوں کہ آج کی عورت وہ عورت نہیں رہی جو جوے میں ہار دی جاتی ہے
آج وہ خود اپنے مقدر کی مالک ہے
عرب کی عورتیں دیکھی ہیں جن کی تربیت میں آواز کی کرختگی کو حسن کا ڈرجہ ملا ہے جو ہاتھ میں ڈنڈہ لے کر اپنا دفاع کرنے کے فن سے آگاہ ہے
فردوس عاشق ہر زبان کھولنے سے پہلے سوچ لینا کہ آپ کی ماں بہن بیٹی بھی دفتروں میں کام کرتی ہیں ۔اس جو حراساں کرنا ایک جرم ہے
فردوس نے تھپڑ مار کر اپنا قانونی اور آئینی حق استعمال کیا ہے ۔ویسے قادر مندو خیل سے پوچھنا تھا ،،ہن آرام ای،،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں