50

عمران خان کی عبوری ضمانت میں توسیع

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی مئی میں پارٹی کے لانگ مارچ کے دوران تشدد اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے 10 مقدمات میں عبوری ضمانت میں 21 جولائی تک توسیع کر دی جب کہ ایک اور عدالت نے 5 مقدمات میں سابق وزیراعظم کی ضمانت قبل از گرفتاری کی بھی توثیق کردی۔

5 مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری

ایک رپورٹ کے مطابق عمران خان نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ (ویسٹ) کے جج کامران بشارت مفتی اور اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج( ایسٹ) عبدالغفور کاکڑ کے سامنے قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست دی تھی۔

مقدمات کے خلاف اپیل کے دوران پی ٹی آئی چیئرمین عدالت میں پیش نہیں ہوئے، ان کے وکیل بابر اعوان نے سابق وزیراعظم کی ذاتی حیثیت میں عدالت کے سامنے پیشی سے مستثنیٰ قرار دینے کی درخواست دائر کی، دونوں عدالتوں نے درخواستیں منظور کرتے ہوئے انہیں گزشتہ روز لازمی حاضری سے استثنیٰ دیا۔
مئی کو ہونے والے پرتشدد واقعات کے سلسلے میں وفاقی دارالحکومت کے تھانوں آبپارہ، کوہسار، کراچی کمپنی، گولڑہ، ترنول اور تھانہ سیکریٹریٹ میں ان کے خلاف درج 10 ایف آئی آر میں گرفتاری سے روکنے کی درخواست پر جج کامران بشارت مفتی نے عبوری ضمانت میں 21 مئی بروز جمعرات تک توسیع کردی۔

دوسری جانب ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ( ایسٹ) عبدالغفور کاکڑ نے سابق وزیراعظم کے خلاف بارہ کہو، سہالہ، کورال اور لوہی بھیر تھانوں میں تعزیرات پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت درج کی گئی 5 ایف آئی آرز میں ضمانت کی درخواستوں کی توثیق کی۔

اس سے قبل، 24 جون کو دونوں عدالتوں نے ہر مقدمے میں 5000 روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض عمران خان کی عبوری ضمانت منظور کی تھی، عدالتوں نے کارروائی ملتوی کرنے سے قبل متعلقہ تھانوں سے مقدمات کا ریکارڈ بھی طلب کیا تھا۔

Leave a Reply