اسد علی طور 97

صحافی اور وی لاگر اسد علی طور پر اسلام آباد میں حملہ

اسلام آباد–صحافی اور ویڈیو بلاگر اسد علی طور پر اسلام آباد میں ان کے فلیٹ میں قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ حملہ آور نامعلوم افراد جن کی تعداد تین بتائی جا رہی ہے نے اسد علی طور کے اپارٹمنٹ میں گھس کر انہیں زدوکوب کیا۔ ان پر تشدد کیا ان کو رسیوں سے باندھ کر ان کےمنہ میں کپڑا ٹھونس دیا۔

بی بی سی کے اعظم خان کے مطابق اسد علی طور کا کہنا ہے کہ ان پر حملہ کرنے والے افراد نے انھیں ٹھوکریں ماریں اور ان سے زبردستی ‘پاکستان زندہ باد کے نعرے لگوائے۔’

سی ٹی وی فوٹیج جو اس وقت سوشل میڈیا پر چل رہی ہے کے مطابق اسد علی طور زخمی حالت میں اپنے فلیٹ سے باہر آتے ہیں اور مدد کے لیے پکارتے ہیں۔ اس وقت ان کی حالت انتہائی خراب ہے۔ ملک بھر کے صحافتی حلقوں نے اسے آزادی اظہار پر حملہ قرار دیا ہے۔ وفاقی وزیراطلاعات نے بھی اس واقعہ کی بھرپورانداز میں مذمت کی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشل سمیت بڑے انسانی حقوق کے ا داروں نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے۔

اسد علی طور کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ حکومت کے خلاف ہیں اور ان کا ایک مخصوص نکتہ نظر ہے۔ ان کے خلاف ایک مقامی تھانےمیں مقدمہ بھی درج کروایا گیا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل جنوبی ایشیا کی جانب سے بھی اس حملے کی مذمت کی گئی۔ ادارے کی ٹویٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں صحافیوں کے تحفظ کے بل اسی ہفتے پیش کیے جانے کے بعد صحافی کے خلاف اسی کے گھر میں پُرتشدد حملے پر ادارے کو شدید تشویش ہے۔ ہم حکام سے اپنا مطالبہ دہراتے ہیں کہ وہ صحافیوں کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں