206

شیریں مزاری کا اپنے بیڈروم سے ‘وائس ریکارڈر’ برآمد ہونے کا دعویٰ

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما شیریں مزاری نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی طرح ان کے بیڈروم سے وائس ریکارڈر برآمد ہوا ہے۔اسلام آباد میں سینیٹر شبلی فراز کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کل دوپہر میرے بیڈروم میں موجود کافی ٹیبل سے ملازمہ کی ٹکر کے باعث ایک ڈیوائس نیچے گری جو ٹیبل میں نصب کی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ پہلے ہمیں خیال آیا کہ یہ شاید یو ایس بی ہے اور اسے چیک کرانے کا فیصلہ کیا اور تحقیقات میں پتا چلا کہ یہ وائس ریکارڈر ہے اور امریکی ماڈل ہے جس کی معلومات انٹرنیٹ سے نکال لی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ آئین کی دفعہ 14 (1) کی خلاف ورزی ہے، میرے بیڈروم میں کس ایجنسی نے یہ لگایا، ہمیں شک و شبہ ہے کہ کس نے یہ کام کیا لیکن اس کے پسِ پردہ مقصد کیا تھا۔

شیریں مزاری نے کہا کہ پہلے مجھے اغوا کیا، اس کیس میں رات کو وفاقی حکومت کے عہدیدار اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے اور کہا کہ ہمیں معلوم ہی نہیں، صوبائی حکومت نے کیا تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ اغوا کس نے کرایا؟

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد انہوں نے پی ٹی آئی قیادت کے خلاف ہراساں کرنے کا ہر حربہ استعمال کیا، مقدمات بنائے، ہمارے موبائل فونز ٹیپ کیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج کل ریاست کی کوئی حد نہیں ہے، آئین و قانون کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں اور اگر کوئی بولتا ہے خاص طور پر صحافی تو اس پر جھوٹے کیسز بنادیے جاتے ہیں، مجھ پر 4 ایف آئی آرز کٹی ہوئی ہیں۔

رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ پھر میرے بیڈروم میں یہ ڈیوائس بھی لگانے کی ضرورت پڑ گئی، کیا معلومات نکالنا چاہ رہے تھے؟

میڈیا کے سامنے ڈیوائس دکھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سننے والی ڈیوائس ہے اس سے آواز ریکارڈ ہوتی ہے اور اس کی رینج بھی کافی ہے، ابھی یہ ڈیوائس ٹریس ایبل ہے جو بھی یہ کر رہا ہے اسے معلوم ہے کہ یہ ڈیوائس اس وقت کہاں موجود ہے۔

ڈیوائس لگانے کیلئے گھر کے ملازم کا استعمال کیا گیا’شیریں مزاری کا کہنا تھا کوئی شرم و حیا نہیں ہے، کوئی لحاظ نہیں ہے، چادر اور چار دیواری کا کوئی تصور نہیں ہے اور یہ گھروں میں کام کرنے والے کمزور لوگوں کو استعمال کرتے ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ میں زیادہ نہیں بتانا چاہتی کیونکہ جن لوگوں کو اس کام کے لیے استعمال کیا گیا انہیں دھمکی دی گئی تھی کہ ان کی زندگی خطرے میں ہے تو بہتر ہے کہ زیادہ تفصیلات میں نہ جایا جائے۔

Leave a Reply