83

جاؤ امریکیو جاؤ۔ خس کم جہاں پاک، محمد صغیر قمر

یادش بخیر!!
دوسال پہلے کا ایک کالم۔
جاﺅامریکیو،جاﺅ!!

                                                               محمدصغیرقمر

امریکیوتم جارہے ہو؟
جاﺅ جاﺅ،خس کم جہاں پاک!!
تمہارا جانا ٹھیر گیا،صبح گئے یا شام گئے۔یہ نوشتہءدیوار ہے،اٹھارہ ماہ ،اٹھارہ سال یا صرف اٹھارہ دن۔۔ایک روز تمہیں جانا تھا۔جاﺅ اور بحیرہ اقیانوس سے چلو بھر پانی لے کر ڈوب مرو۔تم سترہ برس پہلے اس خطے کا سکون برباد کرنے آئے تھے،جیسے تم نے پوری دنیاکے کمزوروں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔تمہارا کہنا تھا کہ افغانستان برائی کا گڑھ ہے اور تم اس ”برائی“ کو مٹا کر جاﺅ گے۔یہ کیا ہوا کہ تم خود تبائی کے دہانے تک پہنچ کر اس ”برائی“سے جھپییاں ڈالنے لگے۔تمہاری وہ رعونت ،تکبر ،غرور کیا ہوا جس کو تم ساتھ لائے تھے؟تمہارے بی ۰۲طیارے،ڈیزی کٹر،اسٹٹنگر اور بموں کی ماں کدھر گئی کہ تم خود ماں کی گود میں جا ”وڑنے“ کو بے چین ہو گئے ؟تمہارے وہ تین سو ارب ڈالر سالانہ کہاںگئے جو تم اس خطے کی اصلاح کے لیے ساتھ لائے تھے؟تمہارے وہ عقوبت کدے کہاں گئے جن سے تم انسانوں کو ڈراتے تھے،تمہارا گوانتاناموبے خود تمہاری ذہنیت کا عکاس کیوں بن گیا؟تمہاری تہذیب کیا یہی تھی جو تم نے ایک تباہ حال ملک میں پیش کی،تم تو کہتے تھے کہ مسلمان تمہاری تہذیب سے جلتے ہیں ،یہ کیا ہوا کہ تمہارے لوگ مسلمانوں کی تہذیب میں ڈھلنے لگے؟سنوامریکیو!تمہارے ساتھ جو ہورہا ہے،تم جس راستے پر چل پڑے ہویہی فطرت کی راہ گزر ہے جو تباہی کی طرف جاتی ہے ،تمہیں اس راہ گزر سے واپسی کا اب راستہ نہیں ملے گااس لیے کہ وقت تمہاری رعونت پر خاک ڈال چکا ہے۔
یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا

        یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں

تمہیں کسی نے یا دنہیں کرا یا تھا کہ اس خطے سے پہلے بھی دو نا نہاد سپر طاقتیںزخم چاٹتے ہوئے واپس گئی تھیں اورتمہاری طرح ان کو بھی ”خدا“ ہونے کا گمان تھا۔تمہیں تو وہ افغانی محاورہ بار بار یاد نہیں کرایا گیا تھا جس میں دعا کی گئی ہے ؟کہ اللہ آپ کو کوبرا سانپ کے زہر، شیر کے دانتوں اور افغان کے انتقام سے بچائے،وہ کیا خواہش تھی جو تمہیں کھینچ کراس مقتل میں لے آئی؟ایسا مقتل جو دلدل بن گیا۔ جب روس آیا توتمہارے راتب خور اس وقت بھی ڈراتے تھے کہ روس جہاں جاتا ہے واپس نہیں آتا,روس ہواو¿ں پر حکمرانی کرتا ہے،سمندروں پر قابض ہے۔ زمین پر اس کی بادشاہت ہے۔ ہم نے دیکھا روس نے زمین پر قیامت ڈھائی آسمان سے نیپام بم برسائے اور تیرہ لاکھ انسان شہید کر دیے ۔یہ کہتے تھے روس کے خلاف بولونہ لکھو ورنہ بھسم کر دیے جاو¿ گے….. پھر ایک روز سوویت یونین کی افواج پسپا ہو کر دریائے آمو کے اس پار اتر گئیں,تمہارا سویت یونین بکھر کر رہ گیا۔اس کا روبل ٹکے ٹکے میں بکنے لگا۔اس کی سپاہ وردیاں بیچ کر نان نفقہ چلانے لگی۔پھرتم ا درتمہارے حواری افغانستان میں اترے…..راتب خور ہمیں پھریہ کہہ کر ڈرانے لگے کہ امریکا کھا جائے گا،گوانتاناموبے لے جائے گا,تمہیں دھشت گرد قرار دے کر اڑادے گا,بن آئی موت مارے جاو¿گے۔ہمیں کہا گیا تم اپنے ہیرﺅز کو دہشت گرد کہو،اپنے شہیدوں کا نام نہ لو،جیہاد کا ذکر نہ کرو۔امریکا کی جنگ کو ”اپنی“جنگ کہو ورنہ پتھر کے دور میں واپس بھیج دیے جاﺅ گے۔تم نے ڈرانے کے لیے اپنے ایجنٹ خریدے ان میں نام نہاد دانش ور،شاعر ،ادیب ،سیاست کار،ملاں، جعلی جہادی اور موم بتی آنٹیاں شامل تھے۔یہ اٹھتے بیٹھتے اس ملت کو ہاﺅہاﺅ کر کے ڈراتے تھے۔ہمارے حکمرانوں نے یہ سچ جانا اور ڈگیں ڈال دیں۔یہ خود بھی ؒیٹ گئے اور قوم کو بھی لیٹنے کا حکم دے ڈالا۔
امریکیو! تم نے واقعی ذلت آمیز سلوک کیا ،ایسا سلوک کہ انسانیت شرما کر رہ گئی۔ تم نے افغانستان کو تورا بورا بنا دیا.لاکھوں انسان تہ تیغ کر دیے،بستیاں اجاڑ ڈالیں۔ بڑے تو بڑے تھے تم نے شیر خوار بچے پیس ڈالے۔لاکھوں بے گناہ انسان قتل کیے ۔اقوامِ متحدہ کے مطابق سال 2017 تک 3 لاکھ 60 ہزار لوگ کیمپوں میں منتقل ہوئے ۔تباہ حال افغانستان کے ملبے کو تم نے پھر سے کھود ڈالا،اللہ کا نام لینے والوں کے لیے زمین تنگ کر دی گئی۔گزشتہ صدی کا سب سے بڑا معجزہ کر دکھانے والی سر زمین‘ جس کی دہلیز پر اﷲ سے بغاوت کی تحریک نے سسک سسک کر دم توڑا ‘ جس کی ضرب کاری نے نہ صرف کیمونزم کے غلبے کے خواب بکھیر دیے ‘ بلکہ خواب دیکھنے والا سوویت یونین بھی بکھر کر رہ گیا ۔اس لہو کی گرمی نے شیشان سے بوسنیا تک اور کشمیر سے اراکان تک غلامی کی زنجیروں کو پگھلا کر رکھ دیا۔ایک نہتی ملت کے ہاتھوں سویت یونین کی شکست نے دنیا بھر کے پسے مظلوں کو حوصلہ ملا۔ افغانستان، کہ جس کی پوری پوری بستیاں روسی نیپام بموں سے اپنے مکینوں سمیت جل کر راکھ بن گئیں ‘پورے پورے گاﺅں ماسکو سے آنے والے ٹینکوں کے نیچے روند ڈالے گئے ‘ روسی طیاروں کی بم باری میں جس کے ان گنت گھر ہی مکینوں کی ابدی قبریں بن گئے ۔امریکیو!تم نے بھی وہی کیا جو روس نے کیا تھا۔تم بھی اس سے بڑے ظالم نکلے،تمہاری اور ان کی تہذیبی قدری مشترک نکلیں۔یہ سب کچھ کرنے کے باوجود تمہارے ماتھے پر پسینہ نہ آیا؟تمہارے اندرضمیر نام کی کوئی چیز نہیں تھی؟
افغانستان کہ جس کا سینہ پندرہ لاکھ شہیدوں کے لہو سے لالہ زار ہوا تھا۔ ایک ایک چپہ درخشاں ‘ ایک ایک ذرہ روشن ‘خون شہیداں سے کوہ و دمن پر نورہوئے تھے۔ تم نے اس نور میں اور رنگ بھر دیا۔ اب یہ سر زمین اس مقدس لہو اور متبرک جسموں اور ان کے خوابوں کی امین ہے ۔ آج تم جا رہے ہو تو پھر بھی تمہاری خواہش ہے کہ یہ لوگ اپنے شہیدوں کے خوابوں سے غداری کر دیں ۔ اپنے جاں بازوں ‘ سر فروشوں اور علم برداروں کو تمہارے ایجنٹوں کے ہاتھوں بیچ دیں ۔ سمندر پار کے سوداگروں سے ان کی زندگی کا سودا کردیں ۔
ہزاروں باوفاجو شہادت پا کر اس خاک میں سو گئے ‘ عہد وفا کرنے والوں کے لاکھوں یتیم بچے اس دھرتی نے گودمیں چھپا رکھے ہیں۔ ہزاروں بیواﺅں کے سر ننگے ہیں۔ بیس لاکھ وہ ہیں جن کے ہاتھ پاﺅں ‘ ٹانگیں کٹی ہوئی ہیں ۔ کروڑوں وہ ہیں جن کو چھتیں نصیب نہیں ۔ خشک سالی ‘ قحط ‘ جنگ کے گہرے سائے میں پڑے تھے کہ اچانک ان پر تم نے نے آسمان سے آگ برسائی ۔ سینکڑوں بچے اور بوڑھے دم توڑ گئے ہیں ۔ کیا ممکن تھا کہ ان بچوں ‘بیواﺅں ‘ ان شہیدوں اور غازیوں کی آزادی امریکہ کے ہاتھ بیچ ڈالتے؟ ۔
امریکیو! تم دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر دہشت گردی کے خوگر ہو‘ تم ایک ایسے شخص کی واپسی کا بہانہ بنا کر پل پڑے تھے ‘ جس پربعد ابھی تک کوئی جرم ثابت نہیں کر سکے ہو۔ 2004کے ایک آڈیو پیغام میں اسی شخص اسامہ بن لادن نے کہا تھا، ”ہم امریکا کو اتنا لہولہان کر دیں گے کہ وہ دیوالیہ ہو کر رہ جائے گا۔ ہمارا کام بس اتنا ہے کہ کسی بھی جگہ ایک کپڑا لہرا کر اس پر القاعدہ لکھ دیں اوامریکی جنرل وہاں دوڑ پڑیں گے اور اس کے نتیجے میں امریکا کا جانی، مالی اور سیاسی نقصان ہوتا رہے گا۔“
احمق امریکیو!بن لادن کی پیشگوئی درست ثابت ہوئی اور عراق، افغانستان کی جنگوں اور یمن، صومالیہ اور پاکستان میں ڈرون حملوں سے تمہارے فوجی اخراجات میں نہ صرف اضافہ ہوا بلکہ ان جگہوں پر لڑائی کے دورن تمہاری ہلاکتوں اور امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک سے واشنگٹن کی اخلاقی ساکھ بھی پامال ہوئی۔پھر بھی تمہیں عقل نہیں آئی؟تم دہشت گردی کے خلاف نام نہاد عالمی جنگ میں اب تک کئی ٹریلین ڈالر زاڑا چکے ہو ،جس کے بعد مالیاتی بحران تمہیںکھوکھلا کر چکا ہے۔ اگرچہ تم سمجھتے ہو کہ امریکی فوج اب بھی دنیا میں سب سے زیادہ”طاقتور “فوج ہے لیکن جان لو کہ جس کامیابی سے دنیا کے غیر منظم گوریلا گروپوں نے اسے چوٹ لگائی ہے، اس سے بتدریج دنیا میں تمہاری طاقت کمزور ہوتی چکی ہے۔عنقریب تمہارا ڈالر بھی روسی روبل کے بھاﺅ بکے گا،تمہارے فوجی بھی نیویارک اور واشنگٹن کی گلیوں میں اپنی وردیاں فروخت کریں گے۔تم برسوں اپنے زخم چاٹتے رہو گے۔با اصول دشمن نادان دوست سے بہتر ہوتا ہے لیکن تم جیسے کمینے دشمن سے یہی امید تھی۔تم ہماری امیدوں پر ”پورے“ اترے ہو۔۔تھینک یو!!
جاﺅ امریکیو جاﺅ!!لیکن سنو،جاتے ہوئے ایک احسان کرتے جاﺅ تم اپنے حرام خور،لاڈلے شاعر،ادیب ،سیاست کار،دلال ،موم بتی آنٹیاں اورپالتو ملاں ساتھ لے جاﺅ۔ یہ کبھی بھی ہمارے نہیں تھے ،یہ تمہارے ہیں۔اپنایہ گند سمیٹ کر جانااپنی بدبودار ”نسل‘بحیرہ اوقیانوس کے اس پار ساتھ لے جاﺅجہاں تمہاری نام تہذیب آپ اپنے ہاتھوں خود کشی کر رہی ہے۔اگر تمہاری یہ نسل اس خطے میں باقی رہی تو یاد رکھو ہماری نسلیں صدیوں تک ان سے لڑتی رہیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں