وفاقی وزیر ریلوے اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے پنجاب کے ضمنی انتخابات میں شکست کے بعد ردعمل میں کہا کہ نتائج سے ثابت ہوگیا ریاستی اداروں اور حکومت نے کوئی دھاندلی نہیں کی۔ 78

ثابت ہوا ریاستی اداروں اور حکومت نے کوئی دھاندلی نہیں کی، خواجہ سعد رفیق

وفاقی وزیر ریلوے اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے پنجاب کے ضمنی انتخابات میں شکست کے بعد ردعمل میں کہا کہ نتائج سے ثابت ہوگیا ریاستی اداروں اور حکومت نے کوئی دھاندلی نہیں کی۔

لاہور میں وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہماری جدوجہد جاری ہے اور جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہماری سیاسی زندگی میں کئی نشیب و فراز آئے، ہم نے بارہا مشکلات کا مقابلہ اور ان تمام مشکلات کو عبور کیا، آج ہم بھی عمران کی طرح رونا روسکتے۔ دھاندلی کے الزامات لگائے جاسکتے ہیں، خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومت کے وسائل کی بات کرسکتے ہیں مگر یہ نہیں کریں گے۔

اب عمران خان کیا کہتا ہے کیا دھاندلی ہوئی

ان کا کہنا تھا کہ پوری قوم کو معلوم ہے کہ آج شام عمران خان حسب عادت رونا شروع کیا تھا، دھاندلی دھاندلی کا شور مچایا جارہا تھا، عدالتیں کھولنے کی بات کی جارہی تھی، اب عمران خان کیا کہتا ہے کیا دھاندلی ہوئی۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ شخص اور اس کے ساتھی ایک بار پھر جھوٹے ثابت ہوئے ہیں، نتائج بتا رہے ہیں کہ اسٹبلشمنٹ، الیکشن کمیشن آف پاکستان، وفاقی حکومت اور پنجاب کی صوبائی حکومت مکمل طور پر غیرجانب دار تھیں اور سیاسی قوتوں کے درمیان یہ ایک سیاسی مقابلہ تھا۔

مزید پڑھیے: مریم نواز شریف نے بھی شکست تسلیم کر لی

ان کا کہنا تھا کہ ثابت ہوگیا کہ ریاستی اداروں اور حکومت کی جانب سے کسی قسم کی کوئی دھاندلی نہیں کی گئی، اہم ترین بات یہ ہے کہ ہمارا مقابلہ بڑھی ہوئی تیل کی قیمتوں، مہنگائی سےتھا۔

انہوں نے کہا کہ جب ہماری قیادت اور مخلوط حکومت کے قائدین اور جماعتیں یہ سوچ رہے تھے اور سوال ان کے سامنے آیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر اور عالمی مالیاتی اداروں سے معاہدے کرکے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا ہے یا بھاگنا ہے تو بھاگنے کا راستہ موجود تھا، یہ بات ہم پہلے بھی کرچکے ہیں۔

سیاست اوپر نیچے ہوسکتی ہے

ان کا کہنا تھا کہ حکمران اتحاد کے تمام قائدین نے کہا بھاگنا نہیں ہے۔ سیاست اوپر نیچے ہوسکتی ہے لیکن پاکستان کا مفاد مقدم ہے، اسی لیے مشکل اور سخت فیصلے کیے اور عمران خان کے گناہوں کا بوجھ اپنے سر پر اٹھایا۔ ہم نہ اٹھاتےتو کون اٹھاتا کیونکہ الیکشن میں جاتے تو عبوری حکومت سے دنیا کا کوئی ادارہ معاہدہ نہیں کرتا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی سیاست داؤ پر لگائی اور اپنے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا جو عمران خان کرکے گیا تھا۔ بس اعلان ہونا باقی تھا، اس لیے ہمیں کوئی افسوس نہیں ہے۔ ہمیں تو 19 سیٹیں بھی یاد ہیں اور اس کے بعد بھی ہماری حکومتیں بنتی رہی ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ جنگ اور جدوجہد جاری رہے گی۔یہ اقتدار کی جنگ نہیں بلکہ پاکستان میں جمہوری اصولوں کو لاگو کرنے اور معاشی استحکام اور لوگوں کو انصاف دینے کی جہدوجہد ہے۔

ہمارے سامنے ایک جھوٹا آدمی اور اس کا ٹولہ ہے

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے سامنے ایک جھوٹا آدمی اور اس کا ٹولہ ہے جس کو 2014 سے باقاعدہ دودھ پلایا گیا تھا۔ نشوونما کی گئی تھی، چور کا چورن بیچا گیا تھا اور بہت سے لوگوں کے ذہنوں پر اس کے نقوش بھی رہے، جس میں سب شامل تھے لیکن ہم ڈٹے رہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور ہماری ساتھ واپسی کریں گے۔ اگلی حکمت عملی اور لائحہ عمل کا اعلان جلد ہوگا۔ مقابلہ جاری رہے، اتحادیوں کا اجلاس بلایا جا رہا ہے اور مشاورت کے بعد اگلے مراحل کا اعلان کیا جائے گا۔

رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ یہ نشستیں مسلم لیگ (ن) کی نہیں تھیں، ان 20 نشستوں پر مسلم لیگ(ن) ہاری یا ہروائی گئی تھی اور مخالف جیتے تھے، ہم نے جو 4 سیٹیں حاصل کی ہیں وہ ہیں جو ہاری تھیں اور اب جیتی ہیں لیکن ہم نے اپنی کوئی سیٹ نہیں ہاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ راولپنڈی کی نشست پر رزلٹ روکا گیا ہے۔ وہاں پی ٹی آئی کے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں نتیجے کا اعلان نہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم کوئی ناشائستہ راستہ اختیار نہیں کریں گے، جمہوری اقدار اور آئین میں دیے ہوئے راستے کے مطابق پیش قدمی جاری رکھیں گے۔

Leave a Reply