203

توہین آمیز بیان، بھارتی سپریم کورٹ کا نوپورشرما کو گرفتار نہ کرنے کا حکم

بھارتی سپریم کورٹ نے پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں گستاخانہ بیان دینے والی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی معطل سابق ترجمان نوپورشرما کو ریلیف دیتے ہوئے حکم دیا کہ ان کے خلاف درج 9 مقدمات میں انہیں گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔‘این ڈی ٹی وی’ کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نوپور شرما کے خلاف کیس کی سماعت 10 اگست کو کرے گا، اس وقت تک کوئی نیا مقدمہ درج نہیں کیا جائے گا۔

مزید پڑھیے: ویرات کوہلی کی حمایت پر بابراعظم کی اسپورٹس مین شپ کی ٹوئٹر پر تعریف

سپریم کورٹ نے نوپورشرما کی جانب سے تمام فرسٹم انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کو یکجا کرنے کی درخواست پر متعلقہ ریاستوں سے جواب طلب کرلیا، ان ریاستوں میں دہلی، مہارشٹرا، مغربی بنگال، کرناٹک، اتر پردیش، جموں و کشمیر اور آسام شامل ہیں۔نوپور شرما کے وکیل نے سپریم کورٹ میں دلائل دیے کہ عدالت کی جانب سے یکم جولائی کو سخت حکم دیے جانے کے بعد سے ان کی زندگی کو لاحق خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔

اس کے وکیل منیندر سنگھ نے عدالت کو بتایا کہ اس کی جان کو لاحق خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے، سیکیورٹی کی کوئی حد ان کا تحفظ نہیں کرسکتی، اس کی زندگی کو حقیقی خطرہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یکم جولائی کے حکم کے بعد اجمیر درگاہ کے ملازم نے ویڈیو پر اس کا گلا کاٹنے کی دھمکی دی، اسی طرح یوپی کے ایک رہائشی نے اس کے ساتھ بدسلوکی اور سر قلم کرنے کی دھمکی دی۔

اس کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس حوالے سے پہلے ہی قوانین موجود ہیں کہ ایک ہی جرم کے لیے ایک سے زائد ایف آئی آرز نہیں کاٹی جاسکتیں۔

جسٹس سوریا کانت نے بتایا کہ یکم جولائی کو ہم نے درخواست گزار کو دیگر قانونی راستے تلاش کرنے کی آزادی دی تھی، اب وہ کہتی ہیں کہ اس کے لیے یہ کرنا ناممکن ہو گیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ اس کی زندگی کے تحفظ کی فوری ضرورت ہے۔

یکم جولائی کی سماعت میں بھارتی سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ نوپور شرما کو اپنے تبصروں پر قوم سے معافی مانگنی چاہیے جس کے سبب ملک میں کشیدگی پیدا ہوئی۔

جج نے کہا تھا کہ جس طرح اس نے پورے بھارت میں جذبات کو بھڑکایا اور جو کچھ بھارت میں ہو رہا ہے اس کی تنہا ذمہ داری اس خاتون پر عائد ہوتی ہے۔

سپریم کورٹ نے توہین آمیز بیان دینے والی خاتون کو ‘بدزبان’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی بدزبانی نے پورے ملک میں آگ لگا دی ہے، انہوں نے غیرذمے دارانہ بیانات دیے جو اودے پور جیسے واقعات کی وجہ بنے اور یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ وہ 10سال سے وکالت کررہی ہیں، انہیں پورے ملک سے فوراً معافی مانگنی چاہیے۔بی جے پی کی سابق ترجمان بی جے پی نوپور شرما نے ایک ٹیلی ویژن شو میں بحث کے دوران حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے توہین آمیز بیان دیا تھا جس کے بعد بھارت بھر میں شدید مظاہرے کیے گئے تھے جبکہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمان ممالک نے اس بیان کی شدید مذمت کی تھی۔

Leave a Reply