76

ترکی افغانستان سے فوج واپس بلا لے ورنہ ان پر بھی حملہ کریں گے، طالبان

کابل: افغان طالبان نے ترکی کو کھلم کھلا دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس نے اپنی فوج کو واپس نہ بلایا تو اس کیساتھ بھی دیگر حملہ آوروں جیسا سلوک ہی کیا جائے گا۔

تفصیل کے مطابق ترکی نے افغانستان کو پیشکش کی ہے کہ وہ نیٹو اتحادیوں کے ملک سے جانے کے بعد بھی اپنی فوج کو یہاں رکھنے کیلئے پوری طرح تیار ہے تاکہ ہوائی اڈوں سمیت اہم تنصیبات کی حفاظت ہو سکے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق تاہم افغان طالبان نے ترک حکومت کی اس پیشکش کو یکسر طور پر مسترد کرتے ہوئے اس کی سخت مخالفت کی ہے۔


ترکی اپنی فوج واپس بلائے، ورنہ نیٹو جیسے سلوک کیلئے تیار رہے، طالبان کی کھلی وارننگ

Turkey should withdraw its troops, otherwise be prepared for NATO-like treatment, an open warning from the Taliban

11 جون 2021 (11:15) 2021-06-11 

کابل: افغان طالبان نے ترکی کو کھلم کھلا دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس نے اپنی فوج کو واپس نہ بلایا تو اس کیساتھ بھی دیگر حملہ آوروں جیسا سلوک ہی کیا جائے گا۔

تفصیل کے مطابق ترکی نے افغانستان کو پیشکش کی ہے کہ وہ نیٹو اتحادیوں کے ملک سے جانے کے بعد بھی اپنی فوج کو یہاں رکھنے کیلئے پوری طرح تیار ہے تاکہ ہوائی اڈوں سمیت اہم تنصیبات کی حفاظت ہو سکے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق تاہم افغان طالبان نے ترک حکومت کی اس پیشکش کو یکسر طور پر مسترد کرتے ہوئے اس کی سخت مخالفت کی ہے۔برطانوی آرٹسٹ نے الیکٹرانک کچرے سے ‘جی سیون’ سربراہان کے مجسمے بنا ڈالے

افغان طالبان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ایسا کوئی بھی اقدام قبول نہیں کریں گے، نیٹو اور امریکی فوجیوں کی طرح ترک فوج کو بھی ہماری سرزمین چھوڑنا ہوگی۔

یہ بات ذہن میں رہے کہ ایک اندازے کے مطابق اس وقت پورے افعانستان میں لگ بھگ 500 ترک فوجی موجود ہیں جو افغان سیکیورٹی فورسز کو تربیت دینے کی ذمہ داری پر مامور ہیں۔

ترجمان افغان طالبان کی جانب سے جاری اہم بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا ہو یا ترکی ہم کسی دوسرے ملک کی افواج کو ایک منٹ کیلئے بھی اپنی سرزمین پر رکنے کی قطعی طور پر اجازت نہیں دیں گے، ہم اس پر مکمل طور پر متفق ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ اگر ترکی نے ایسا کوئی ارادہ کر لیا ہے تو افغان طالبان کی جانب سے اس کی بھرپور طریقے سے مخالفت کی جائے گی، ہم ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گے۔ ہمیں اپنے ملک میں غیر ملکی افواج کی موجودگی قبول ہی نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ترکی ہمارے ملک میں نیٹو افواج کیساتھ 20 سال تک رہا، وہ ان کے ہی اتحادی ہیں، ہمارا ان سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ترکی نے افغان سرزمین پر رکنے کی غلطی کی تو اسے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا، اس کیساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے گا جو اس سے پہلے امریکا اور اس کے اتحادیوں کیساتھ ہوتا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں