عطا الرحمن 52

بجٹ ستر سال کی تاریخ کے آئینے میں، عطاء الرحمن

بجٹ ہر سال پیش کیا جاتا ہے اس پر بحث و تکرار بھی بہت ہوتی ہے…… حکومت جیسی بھی ہو وہ اپنے مقابلے میں عوامی لحاظ سے زیادہ طاقتور سمجھی جانے والی اپوزیشن سے مرعوب نہیں ہوتی اور ایک بڑے شوروغوغا کے بعد اسے منظور بھی کرا لیتی ہے…… یہ پاکستان کی زندگی کے 70 سالوں کی کہانی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو موجودہ بجٹ کا پیش کیا جانے والا واقعہ انوکھا نہیں …… وزیر خزانہ نے ہمیشہ کی مانند قومی اسمبلی کے اندر بپا کیے جانے والے شورو ہنگامے کی فضا جس میں کانوں پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی مالی سال 2021-22 کا بجٹ ایوان کے سامنے پیش کر دیا…… حکومتی ارکان نے ہر سال کی مانند اسے تاریخی اور انقلاب آفریں قرار دیا ہے جبکہ متحدہ اپوزیشن نے نہایت حقارت کے ساتھ مسترد کرتے ہوئے پارلیمنٹ سے منظور نہ کرانے کی 70 سال کی تاریخ میں ایک مرتبہ پھر دھمکی دے ڈالی …… اس مرتبہ قدرے نئی بات یہ ہوئی کہ اپوزیشن جو پی ڈی ایم میں پھوٹ پڑ جانے کی وجہ سے سخت تفریق کا شکار تھی میاں شہباز شریف اور بلاول بھٹو کی مشترکہ قیادت میں ایک مرتبہ پھر اکٹھی ہو گئی دونوں مل کر ایوان میں داخل ہوئے…… بلاول بھٹو نے یہاں تک کہہ ڈالا میں نے اپنے تمام اراکین قومی اسمبلی کے ووٹ شہباز شریف کے حوالے کر دیئے ہیں …… وہ جیسے چاہیں انہیں استعمال کر سکتے ہیں …… اس طرح بجٹ کو ایوان سے منظور نہ کرانے کی دھمکیوں کے اندر تھوڑی سی جان پڑ گئی لیکن مقابلے میں حکومت کو بھی پورا یقین ہے وہ اپوزیشن کی ایک نہ چلنے دے گی کیونکہ اگر مخالفین وقتی طور پر متحد ہو گئے ہیں تو حکمران جماعت کو بھی پورا یقین ہے ان کا پیچھا بہت تگڑا ہے وہ مقتدر قوتیں جن کے ہاتھوں میں ملک کی اصل زمامِ کار ہے اور حکومتیں بنانے یا الٹا کر رکھ دینے کی طاقت آج بھی اپنے ہاتھوں میں رکھتی ہے ان کے پاس سردست عمران خان کا کوئی متبادل نہیں اور شاید امریکہ کو بھی یہی منظور ہے چونکہ اسے افغانستان سے انخلا کا نازک مرحلہ اور چیلنج درپیش ہے اس عالم میں پاکستان کے نظم حکومت کے ساتھ وہ جیسا بھی ہے زیادہ چھیڑچھاڑ کرنا مناسب نہ ہو گا جن کے ہاتھوں میں فیصلہ سازی کی قوت ہے وہ اس معاملے سے بہتر نمٹنا جانتی ہیں لہٰذا مملکت پاکستان کے سویلین سیٹ پر کسے رونق افروز رہنا چاہیے اور کسے نہیں اس معاملے کو راولپنڈی کے مرکز طاقت کے اندر بیٹھی قوتوں کے صوابدید پر ہی رہنا چاہی۔

ور اقتصادی اورخوشحالی کے دروازے کھول سکتا ہے اور کچھ کی رائے ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ پیش کیا جانے والا بجٹ اعدادوشمار کے دھوکے کے علاوہ کچھ نہیں جسے حکومت نے وقتی فریضہ سمجھ کر پیش کر دیا ہے…… یہ بھی 70 سال کی کہانی ہے جو شاید اس مرتبہ بھی دہرا دی گئی ہے…… تاہم راقم جیسے سیاسی اور عوامی امور پر سطحی سی نگاہ رکھنے والے فرد کے لئے یہ جاننا اشد ضروری ہوتا ہے کہ بجٹ جو اتنی محنت کے بعد پیش کیا گیا ہے عام آدمی کی زندگی پر کتنے خوشگوار اثرات

ڈالے گا اور ملک کی اقتصادی گاڑی کو جو ہمیشہ ’دھکا سٹارٹ‘ کے عالم میں رہتی ہے کو کس حد تک کھینچ کر جیسی تیسی منزل کی جانب رواں رکھنے میں مدد دے گا…… اس لحاظ سے موجودہ بجٹ کی پاکستانی معیشت کے لئے مفید تر یا نقصان دہ ہونے کا اندازہ تو مالی سال 2021-22 کے اختتام پر ہی لگایا جا سکے گا کہ اس کے بارے میں جو دعوے اب کیے گئے ہیں ان پر فی والواقعہ کتنا عمل ہوا اور کتنا نہیں …… ہر بجٹ کے موقع پر کچھ اشیا پر نئے ٹیکس لگائے جاتے ہیں کچھ کو عوام کی سہولت اور انہیں خوشخبری دیتے ہوئے ٹیکسوں سے ماورا رکھا جاتا ہے اور نوید سنائی جاتی ہے کہ اس سے مہنگائی کو گرفت میں لانا ممکن ہو جائے گا…… پاکستان کا تقریباً ہر بجٹ خسارے کا ہوتا ہے تاہم اس مرتبہ خسارہ پہلے کی نسبت بہت زیادہ دکھایا گیا ہے…… وزیراعظم عمران خان اٹھتے بیٹھتے دعویٰ کرتے تھے کہ معیشت اسی وقت مستحکم ہو پائے گی جب بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کم سے کم ہو گا…… مگر اس بجٹ پر تو نگاہ ڈالتے ہی معلوم ہوتا ہے کہ دعویٰ کے برعکس یعنی 51 فیصد ٹیکسوں کی حد تک بالواسطہ طور پر جمع کیے جانے والے محصولات پر انحصار کیا گیا ہے…… آئی ایم ایف کے ساتھ بھی جھگڑا چل رہا ہے…… پچھلے وزیر خزانہ حفیظ شیخ صاحب نے آئی ایم ایف کی تمام شرائط کو قبول کر لینے کا عندیہ دیا تھا لیکن موجودہ شوکت ترین صاحب نے کچھ امور پر اس عالمی ادارے کی ڈکٹیشن پر سر تسلیم خم کرنے سے پہلوتہی کی ہے لیکن معاملہ ابھی بیچ میں لٹکا ہوا ہے…… بالآخر کیا طے پایا ہے یہ آگے چل کر معلوم ہو گا جیسا کہ میں نے سطور بالا میں عرض کیا کہ میں اقتصادی اور مالی امور میں مہارت نہیں رکھتا اس لئے بجٹ کے بارے میں ماہرانہ رائے دینے سے قاصر ہوں لیکن ایک بات جو سمجھ میں نہیں آتی وہ یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے چند روز پہلے شرح نمو کا 3.90 تک چھو جانے کا دعویٰ کیا اور اسی خوشی سے سرشار ہو کر اب قوم کو نوید سنائی جا رہی ہے کہ آئندہ برس اس کا تناسب بہت بڑھ جائے گا…… سوال یہ پیدا ہوتا ہے اگر یہ دعویٰ واقعی درست ہے تو پچھلی حکومت جسے غیرآئینی اور غیرجمہوری طور پر اکھاڑ پھینکا گیا تھا اس نے کیا قصور کیا تھا جس کے دور میں شرح نمو کو پونے 6 فیصد تک پہنچا دیا گیا تھا اور اس کے دور میں معیشت کی گاڑی دھکا سٹارٹ کے مرحلے سے نکل کر قدرے تیز چلنا شروع ہو گئی تھی……بقیہ معاشی اشاریے عمران خان کے پونے تین سال کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط یعنی بلندیوں کی جانب اڑانیں بھر رہے تھے……

ان سب باتوں سے قطع نظر ہماری معیشت کا اصل المیہ یہ ہے 70 سالوں یعنی تقریباً پون صدی کی تمام تر تگ ودو کے باوجود ہم کسی بھی معنی میں معاشی، اقتصادی خودکفالت کی منزل کے قریب پہنچ سکے ہیں نہ عام پاکستانی کی زندگی میں کوئی بڑی اور بامعنی تبدیلی لانے کے قابل ہوئے ہیں …… غیرملکی امداد کے آج بھی اتنے محتاج ہیں جتنے کل تھے…… آئی ایم ایف کی جکڑ بندیوں سے نجات حاصل کرنا 2021 میں بھی اتنا ہی مشکل ثابت ہو رہا ہے جتنا 20، 25 سال پہلے تھا…… معیشت اسی طرح لڑکھڑا رہی ہے جس دگرگوں حالت میں پچاس اور ساٹھ سال پہلے تھی…… یہ ہماری وہ ”کارگزاری“ ہے جس سے امریکہ خوب خوب فائدہ اٹھاتا ہے…… وقتی امداد کے بدلے ہم سے فوجی اڈے حاصل کرتا ہے…… انکار کریں تو اقتصادی پابندیوں کی وعید سناتا ہے…… اسی پر اکتفا نہیں کرتا حکومتیں تک الٹا کر رکھ دیتا ہے…… جمہوریت کا تیا پانچہ کر کے غیرآئینی قوتوں کے غالب آنے میں خفیہ اور ظاہری مدد فراہم کرتا ہے…… یہ سب کچھ محض اس لئے ہوتا ہے کہ ہم ہر سال بجٹ کے اعدادوشمار پر مبنی گورکھ دھندا جو بڑے کروفر کے ساتھ پیش کر دیتے ہیں لیکن وہ اندر سے کھوکھلا ہوتا ہے…… ہماری ساری کی ساری اسٹیبلشمنٹ اور اشرافیہ کی ذہنی اور تہذیبی ساخت و پرداخت امریکہ کی اطاعت گزاری کے ماحول اور کلچر میں رچی بسی ہے…… اس کے باوجود پاکستانیوں کے ایک زندہ قوم ہونے کی نشانی کے طور پر یہ بھی امر واقع ہے کہ ہمارے دو سول وزرائے اعظم اور ایک جلیل القدر سائنسدان نے اس ملک کے دفاع کے تحفظ اور اسے ناقابل تسخیر بنانے کے لئے امریکہ یا واحد سپر طاقت کی تمام تر دھمکیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ایک سویلین اور اور قومی و جمہوری خیالات سے لبریز سیاستدان قائداعظم محمد علی جناحؒ کے بنائے ہوئے پاکستان کو خالصتاً داخلی وسائل کو بروئے کار لا کر ایٹمی طاقت سے مسلح کر دیا لیکن ان تینوں کو اپنے ہی اندر کے طاقتوروں اور ان کی بیرونی پشت پناہی کرنے والوں کے ہاتھوں اسی جرأت رندانہ کی پاداش میں جس انجام سے دوچار ہونا پڑا وہ اپنی جگہ ہماری قومی تاریخ کی دلخراش حقیقت ہے …… بیلنس شیٹ کے طور پر ان طاقتوروں کی کارگزاری بھی ملاحظہ کر لیجیے جو سات دہائیوں کے عرصے میں کشمیر کے نام پر ہر سال قومی بجٹ کا وافر حصہ ہضم کرتے رہے…… انجام کار آج صورت حال یہ ہے بھارت کی مودی سرکار پورے کا پورا مقبوضہ کشمیر ہضم کر چکی ہے…… جبکہ ہم اس کے ساتھ مزید کوئی جنگ لڑنے کے قابل ہیں نہ کسی قسم کی سفارتی معرکہ آرائی کے قابل! اس ننگی حقیقت کی موجودہ بجٹ کے پیش ہونے کے مرحلے پر یاد نے ایک مرتبہ پھر قوم کے صاحبانِ شعور اور باضمیر افراد کے دلوں میں ہلچل اور دماغوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے……

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں