167

امریکی صدر جو بائیڈن کا تعلقات کی بحالی کیلئے سعودی عرب کا دورہ

امریکی صدر جو بائیڈن سعودی عرب سے تعلقات کو دوبارہ بحال کرنے، سعودی قیادت کے ساتھ توانائی کی فراہمی، انسانی حقوق اور سیکیورٹی تعاون پر تبادلہ خیال کے لیے دورہ کریں گے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کے مطابق جو بائیڈن ایک ایسے ملک کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کو دوبارہ بحالی کے لیے دورے پر ہیں جس کو انہوں نے عالمی سطح پر ‘تنہا’ کرنے کا عزم کیا تھا۔صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے میڈیا نمائندگان کو بتایا کہ امریکی صدر سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سمیت دیگر سرکاری عہدیداروں سے ملاقات کریں گے، تاہم دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران باڈی لینگویج اور بیان بازی پر گہری نظر رکھی جائے گی۔

امریکی خفیہ اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی شہزادے نے 2018 میں ترکی میں مقیم واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار جمال خاشقجی کو قتل کرنے کی منظوری دی لیکن ولی عہد نے قتل میں اپنے ملوث ہونے کی نفی کی تھی۔وائٹ ہاؤس کے مشیروں نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے کہ آیا جو بائیڈن سعودی کے حقیقی بادشاہ سے ہاتھ ملائیں گے یا نہیں۔جو بائیڈن ہفتے کو بحیرہ احمر کے بندرگاہی شہر جدہ میں ہونے والے ایک سربراہی اجلاس میں عرب رہنماؤں کے ایک بڑے وفد سے ملاقات کریں گے۔جو بائیڈن کی انتظامیہ کے عہدیدار نے کہا کہ صدر متعدد رہنماؤں سے ملاقات کرنے جا رہے ہیں اور وہ عمومی طور پر ان کا استقبال کریں گے۔

مشرق وسطیٰ کی طرف دورہ شروع کرنے کے وقت انتظامیہ نے اس بات کی وضاحت کی کہ عالمی وبا کورونا وائرس سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے امریکی صدر قریبی ملاقات اور ہاتھ ملانے سے گریز کریں گے لیکن صدر نے اسرائیل میں سربراہان سے ہاتھ ملانے سے گریز نہیں کیا تھا۔

جمعرات کو جو بائیڈن نے کہا کہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل پر ان کا موقف بلکل واضح ہے، جب صحافی جمال خاشقجی کو قتل کیا گیا تھا تو اس کے بعد اور صدارتی مہم کے دوران انہوں نے سعودی عرب کو عالمی سطح پر ‘تنہا’ کرنے کے بیانات جاری کیے تھے۔

جو بائیڈن نے کہا کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ انسانی حقوق کا معاملہ اٹھائیں گے لیکن انہوں نے خاص طور پر یہ واضح نہیں کیا کہ وہ سعودی قیادت کے ساتھ مقتول صحافی کا معاملہ بھی سامنے رکھیں گے۔

امریکا میں سعودی عرب کے سفیر ریما بنت بندار السعود نے امریکی میگزین پولیٹیکو میں ایک کالم لکھتے ہوئے صحافی کے قتل پر سعودی حکومت کی طرف سے نفرت کا اعادہ کرتے ہوئے اسے ایک بھیانک ظلم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے امریکا اور سعودی تعلقات کی تشریح نہیں کی جا سکتی۔

سعودی عرب کے سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو ‘فرسودہ اور تخفیف پسند’ تیل برائے سلامتی کے طور پر بھی نہیں دیکھا جائے۔

انہوں نے لکھا کہ دنیا تبدیل ہو چکی ہے اور ہم سب کو خوراک اور توانائی کی قلت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے خطرات کا سامنا ہے جن کو سعودی عرب اور امریکا کے مؤثر اتحاد کے بغیر حل نہیں کیا جا سکتا۔

توانائی اور سلامتی کے مفادات نے امریکی صدر اور ان کے معاونین کو سعودی عرب کو تنہا کرنے سے روکنے پر مطئمن کیا ہے جو کہ دنیا کا سب سے بڑا تیل برآمد کنندہ اور علاقائی پاور ہاؤس ہے اور روس اور چین کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خلیجی ممالک کی جانب سے خطے سے امریکا کی بے دخلی پر تشویش پائی جاتی ہے۔

امریکا اس بات پر بھی پُرجوش ہے کہ سعودی عرب اور اس کے اوپیک شراکت دار پیٹرول کی بڑھتی قیمت میں کمی لانے اور چار دہائیوں میں امریکا میں آنے والی سب سے زیادہ افراط زر کو کم کرنے میں مدد کے لیے مزید تیل نکالیں۔

ایس اینڈ پی گلوبل کے وائس چیئرمین اور توانائی کی منڈیوں کے ایک ماہر ڈینیئل یرگن نے کہا کہ سعودی عرب یقینی طور پر صلاحیت کو بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے اور تیل کی قیمتیں اتنی زیادہ ہونے کی وجہ سے خلیجی ملک کے پاس ایسا کرنے کی گنجائش موجود ہے خاص طور پر جب وہ چاہیں اور پیداواری رکاوٹوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جو اب بھی بڑھ رہی ہے۔

‘گراؤنڈ بریکنگ’ نقل و حرکت

امریکی انتظامیہ کے عہدیدار نے کہا کہ جو بائیڈن اپنے دورے کے دوران امن قائم کرنے کی حوصلہ افزائی کریں گے اور مشرق وسطیٰ کو مزید مربوط بنانے کے لیے بھی دباؤ ڈالیں گے، جو بائیڈن کی سعودی قیادت سے ملاقات میں یمن میں جنگ بندی کو مضبوط بنانا، توانائی کی منڈیوں میں توازن قائم کرنا اور 5 جی اور 6 جی میں تکنیکی تعاون جیسے معاملات شامل ہیں۔

جو بائیڈن کے اس دورے سے قبل ہی سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود تمام ہوائی جہازوں کے لیے کھول دے گا جس سے اسرائیل سے آنے اور جانے والی زیادہ پروازوں کی راہ ہموار ہو جائے گی، تاہم جو بائیڈن نے اس پیش رفت کو مشرق وسطیٰ کو مزید مربوط اور مستحکم بنانے کی جانب ایک تاریخی اور اہم قدم قرار دیا ہے۔

جو بائیڈن نے ایک بیان میں کہا کہ میری انتظامیہ اور سعودی عرب کے درمیان کافی مہینوں کی مستحکم سفارت کاری کا نتیجہ ہے اور یہ بالآخر ایک حقیقت بن گئی۔

انہوں نے کہا کہ میں اس اہم قدم کو آگے بڑھانے کے لیے براہ راست سفارت کاری اور رہنماؤں کے درمیان تعاون کے ذریعے ہر ممکن کوشش کروں گا۔

واضح رہے کہ جو بائیڈن وہ پہلے امریکی صدر ہوں گے جو اسرائیل سے براہ راست جدہ جائیں گے، جس پر وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ یہ قدم اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو بڑھانے کے لیے چھوٹی علامت کی نمائندگی ہے۔

دو سال قبل سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات اور بحرین کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے خاموشی سے اجازت دی تھی۔

امریکا کی ثالثی میں ‘ابراہم معاہدے’ کے نام سے جانے والے معاہدوں نے خطے میں نئی بحث کو چھیڑ دیا ہے جس پر خلیجی ریاستیں ایران کے جوہری اور میزائل پروگراموں اور پراکسی نیٹ ورک کے بارے میں اسرائیل کے خدشات ظاہر کرتی ہیں۔

سعودی عرب اور ایران برسوں سے علاقائی اثر و رسوخ کے لیے دوڑ میں مصروف ہیں لیکن کشیدگی پر قابو پانے کی کوشش میں گزشتہ برس براہ راست مذاکرات کا آغاز کیا گیا تھا۔

سعودی عرب کے سفیر نے کہا کہ امن اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے امریکا اور سعودی عرب کو اپنی کوششوں سے تعاون بڑھانے اور قواعد پر مبنی نظام کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے تاکہ ایران کی طرف فروغ دی جانے والی افراتفری کے خیال کا مقابلہ کیا جا سکے۔

مشرق وسطیٰ کے دورے کے پہلے مرحلے پر اسرائیل کے دورے کے دوران جو بائیڈن اور اسرائیلی وزیر اعظم یائر لاپڈ نے ایران کو جوہری ہتھیار فراہم کرنے سے انکار کرنے کے لیے مشترکہ عہد پر دستخط کیے تاہم ایران نے اس عمل کی نفی کی ہے۔

Leave a Reply