76

افغان نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر قیام امن کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں، وزیر خارجہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغانستان کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر پاکستان کے خلاف نازیبا زبان استعمال کر کے افغانستان میں قیام امن کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں اور ماحول کو سازگار بنانے کے بجائے اسے بگاڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے ملتان میں پی ٹی آئی ورکرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم اور عرب لیگ کے اجلاس سے مغرب کے دارالحکومتوں میں اتنا ماحول بن گیا کہ اسرائیل کو ناچاہتے ہوئے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنی پڑی اور جو سلامتی کونسل نہ کر سکی، وہ پاکستان کی وکالت کی بدولت ممکن ہوا اور مسلمانوں پر ہونے والے جبر کو رکوانے میں مدد ملی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے فلسطینیوں پر جاری ظلم روکنے کے لیے فائربندی کرائی اور دوسری سفارتی کامیابی اس وقت حاصل ہوئی جب جنیوا میں مخالفت کے باوجود پاکستان کی قرارداد اکثریتی ووٹوں سے منظور کی گئی اور ایک تحقیقاتی کمیشن بھی تشکیل پایا جو اسرائیل کے جنگی جرائم کی تحقیق کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کے نئے وزیر خارجہ نے مجھے بتایا کہ ہم پر 25 منٹ میں 125 بم گرائے گئے، اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہاں لوگوں کی کیا کیفیت ہو گی لیکن اللہ نے ہمیں اس میں کامیابی دی اور ان کو کٹہرے میں لا کر کھڑا کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ جب میں فلسطین کا مقدمہ پڑھ رہاتھا تو میری نگاہ سری نگر پر بھی جا رہی تھی کیونکہ کشمیری بھی یہی کچھ کہہ رہے ہیں اور میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ جس طرح ببانگ دہل فلسطینیوں کا مقدمہ لڑا، تو اسی طرح مارچ 2022 میں پورے عالم اسلام کے وزرائے خارجہ کو اسلام آباد آنے کی دعوت دے کر مسئلہ کشمیر پر ان کو اکٹھا کرنے کی کوشش کروں گا اور کشمیریوں کا حق اور سچ پر مبنی مقدمہ پیش کیا جائے گا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دو دن قبل افغانستان اور چین کے وزرائے خارجہ سے دوبدو گفتگو کی اور افغانستان میں امن کے قیام کے لیے عمران خان کے اقدامات اور ان کی ہدایات کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کا موقف پیش کیا اور امن و استحکام کے لیے ہماری کاوشیں جاری رہیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ میں آج ببانگ دہل کہہ رہا ہوں کہ افغانستان کا نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر کان کھول کر سن لے کہ پاکستان نے بڑی قیمت ادا کی ہے، 83ہزار جنازے ہمارے کندھے پر اٹھے ہیں، 128ارب ڈالر کی قیمت میرے ملک کی معیشت نے ادا کی ہے، ہم امن اور استحکام کی بات کررہے ہیں لیکن ننگرہار میں تم نے تقریر میں پاکستان کے خلاف انتہائی غلط الفاظ استعمال کیے، تم جو الفاظ استعمال کررہے ہو اور پاکستان پر جو تہمتیں لگا رہے ہو تو اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو کوئی پاکستانی تم سے ہاتھ نہیں ملائے گا اور نہ گفتگو کرے گا۔انہوں نے عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر کہلانے والے یہ صاحب صورتحال خراب کرنے والے کا کردار ادا کررہے ہیں اور افغانستان میں امن کے قیام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں اور ماحول کو سازگار بنانے کے بجائے بگاڑنے کی کوشش کررہے ہیں لہٰذا امن کے متلاشی افغانستان کے باشعور شہری انہیں اپنے رویے پر نظرثانی کے لیے قائل کریں کیونکہ یہ رویہ درست نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں