خالد منہاس 104

اسلامو فوبیا ،خالد منہاس

 اسلامو فوبیا
آدھا سچ۔۔ خالد منہاس
میڈیا، میڈیا اور میڈیا۔ جی ہاں اس کے ذریعے آپ دنیا کو فتح کرنے کا خواب دیکھ سکتے ہیں۔ وہ تمام طاقتیں جو میڈیا کو کنٹرول کر رہی ہیں دراصل وہ لوگوں کے ذہنوں کو کنٹرول کر کے اپنے مقاصد حاصل کر رہی ہیں۔ میڈیا کو کنٹرول کرنے کے بعد اسرائیل ایک جارح اور دہشت گرد ریاست سے حفاظت خود اختیاری کرنے والا ملک بن گیا اور جو دہشت گردی کا شکار ہو رہے ہیں وہ بندوقوں، میزائیلوں اور ٹینکوں کا مقابلہ پتھر سے کرکے دہشت گرد کہلائے۔ میڈیا کو ہم نے اس کی طاقت کے طور پر نہیں لیا بلکہ اسے صرف اپنے سیاسی مخالفین کو ٹھکانے لگانے کے لیے استعمال کیا ہے۔معلومات کے ذرائع ہی دراصل لوگوں کی ذہن سازی کا کام کرتے ہیں۔ گذشتہ دنوں کینیڈا کے شہر میں ایک پاکستانی نژاد مسلمان خاندان کو جس انداز میں ٹرک کے نیچے کچل دیا گیا وہ اس مائنڈ سیٹ کی عکاسی کرتا ہے جو اس وقت مغرب میں موجود ہے جس کے تحت اسلام ان کے لیے سب سے بڑے خطرے کے طور پر موجود ہے۔تواتر کے ساتھ جب میڈیا پر جھوٹ بولا جاتا ہے اور دوسرا نکتہ نظر سامنے نہیں آتا تو لوگ اس جھوٹ پر یقین کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو جھوٹ اور سچ کی تلاش کے سفر پر نکلتے ہیں۔ باقی لوگوں کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ سچ اور جھوٹ کے فرق کو جان سکیں اور اگر یہ کام کسی قوم، مذہب، فرقے یا نسل کے حوالے سے ہو تو کوئی سچ تلاش نہیں کرتا جو سامنے آئے اسے مان لیا جاتا ہے۔جھوٹ کی اشاعت کرنے والے جانتے ہیں کہ سچ جاننے والے چند لوگ ہیں اور یہ چند لوگ ان کا ٹارگٹ نہیں ہوتے وہ تو ان پر انحصار کرتے ہیں جو ان کے نکتہ نظر کو چو ں چراں کے بغیر قبول کر لیتے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا کو ایک طرف رکھیں اور پاکستان میں سوشل میڈیا پر جو کچھ کیا جارہا ہے اسے دیکھیں تو سب کچھ سمجھ میں آ جانا چاہیے۔ہر اصول اور ضابطے کو نظر انداز کر کے ایک مخصوص نکتہ نظر کو پروان چڑھانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جاتا ہے۔ آج ہٹلر کے گوئبل کی بات سچ ثابت ہو رہی ہے کہ اتنا جھوٹ بولو کہ یہ سچ لگنے لگے۔
کینیڈا کے وزیراعظم نے اونٹاریو میں حالیہ واقعہ کو انتہائی افسوس ناک قرار دیتے ہوئے اسے دہشت گردی سے تعبیر کیا۔ سچ تو یہ ہے کہ اس واقعہ نے کینیڈا کے چہرے کو داغ دار کردیا۔کینیڈا میں اسلام سے نفرت ایک انڈسٹری بن چکی ہے اور گورے اور متعصب عیسائی اسلام ایک منصوبے کے تحت کینیڈا میں رہنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت کا پرچار کر رہے ہیں۔کینیڈا وہ ملک ہے جہاں مختلف نسلوں اور مذاہب کے لوگ رہائش پذیرہیں، حکومت اسے ایک خوبصورت گلدستے سے تعبیر کرتی ہے لیکن کینیڈا میں موجود چند منظم گروہ جن کو امریکہ سے فنڈنگ ملتی ہے وہ وہاں پر نفرت کو بڑھا رہے ہیں۔ نائین الیون کے بعد ان گروپوں کو اسلام کے خلاف کام کرنے کا  موقع مل گیا اور سازگار حالات میں انہو ں نے اسلاموفوبیا کی تشہیر میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ 2017  میں کنیڈا کے ہاؤس  آف کامنز میں ایک قرار داد جس کا نمبر103ہے پاس کی گئی جس میں حکومت کینیڈا سے کہا گیا کہ اسلاموفوبیا اور اس سے جڑی ہر قسم کی مذمت کرے اور عوام میں نفرت اور خوف کو بڑھانے والے عناصر کا قلع قمع کرے۔اونٹاریو میں ہونے والا واقعہ پہلا واقعہ نہیں اس سے قبل 2017میں کیوبک کی مسجدمغرب کی نماز کے وقت حملہ ہوا جس میں 6افراد جان بحق ہوئے تھے۔
کینیڈا میں اسلام کے خلاف نفرت پھیلانے والے کون سے عناصر ہیں جو مسلمانوں کے خلاف منظم انداز میں کام کر رہے ہیں؟ان میں وہاں کی سیاسی جماعتوں کے چند سرکردہ سیاست دان، میڈیا کے ادارے، سکولوں اور یونیورسٹیوں میں کام کرنے والے متعصب اساتذہ،تھنک ٹینک اور انسانی حقوق کی تنظیمیں شامل ہیں۔یہ کام مختلف سطحوں پر ہو رہا ہے کچھ لوگ ذاتی حیثیت میں کر رہے ہیں کچھ لوگوں نے گروپ بنا رکھا ہے اور ادارہ جاتی سطح پر بھی یہ کام کیا جا رہا ہے۔ یہ عناصر باقاعدہ طور پر ایسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں جن کا مقصد اسلام کو کینیڈا میں کھڈ ے لائین لگانا اور اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے نفرت انگیز بیانیے کو مشتہر کرنا شامل ہے۔ اظہار رائے کی آزادی کے نام پر ان گروپوں کو کینیڈ ا اور امریکہ میں نفرت کا پرچار کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ میں نے پہلے بھی عرض کیا ہے کہ نائین الیون کے واقعہ کے بعد ان گروپوں کو زیادہ آزادی سے کام کرنے کا موقع ملا ہے اور انہوں نے اسلام اورمسلمانوں کے خلاف نفرت کے پرچار کو زیادہ منظم انداز میں آگے بڑھایا۔ ایک سٹڈی کے مطابق 2012سے 2017تک مسلمانوں اور اسلام کے خلاف نفرت میں 253فیصد تک اضافہ ہوا۔ایک اور سروے کیا گیا جس میں یہ سامنے آیا کہ دوسرے مذاہب کے  مقابلے میں کینیڈا میں رہنے والے 43فیصد لوگ اسلام کے حوالے سے منفی رائے رکھتے ہیں۔کینیڈا میں بہت سے شہر ایسے ہیں جہاں پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تعصب کا کھل کر اظہار کیا جاتا ہے۔مسلمانوں کو کنیڈین معاشرے کے اندر ایک دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ ریڈیو کینیڈا نے ایک پول کرایا جس میں 74فیصد کینیڈین نے اس بات کی حمایت کی کہ کینیڈا کی امیگریشن حاصل کرنے والے مسلمانوں سے کینیڈا کی تہذیب اور روایات کا ٹیسٹ لیا جانا ضروری ہے۔اس سروے میں 23فیصد لوگوں نے یہ رائے بھی دی کہ کینیڈا کی امیگریشن کے لیے مسلمانوں پر پابندی عائد کر دی جائے، کیوبک میں یہ شرح 32فیصد تھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ جس طرح مسلمانو ں کے خلاف نفرت کا اظہار کرتا تھا کینیڈا میں رہنے والے اسلاموفوبیا کے پیروکار اسے ہیرو مانتے تھے اور جسٹن ٹروڈو کو ولن کے طور پر لیتے تھے۔
کینیڈا کے چہرے کو داغدار کرنے میں سابق وزیراعظم ہارپر کے دور میں بہت کام ہوا اور ایسی پالیسیاں بنائی گئی جس کا  مقصداسلام اور مسلمانو ں کو معاشرے میں مارجنلائز کرنا تھا۔ کیوبک میں ایک بل پاس کیا گیا جس کے تحت نقاب پہننے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اس پر یہ بحث چھڑ گئی کہ اس بل کو لانے کی ضرورت کیوں پیش کی گئی حالانکہ وہاں صرف چند خواتین ایسی تھی جو نقاب پہنتی تھی۔ اس وقت اعدادوشمار اکٹھے کیے گئے تو پتہ چلا کہ کیوبک میں ایک لاکھ چودہ ہزار مسلمان خواتین موجود ہیں جس میں سے 0.7فیصد خواتین نقاب پہنتی ہیں یعنی صرف 90خواتین۔ اتنی کم آبادی کے حوالے سے یہ قانون سازی نفرت اور تعصب پر مبنی تھی۔خواتین کے حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس صوبے کی حکومت بھی طالبان کی طرح تھی۔ طالبان نے خواتین کو زبردستی نقاب پہننے کا پابند کیا اور کیوبک کی حکومت نے زبردستی نقاب اتروا دیے۔
کیا یہ صر ف چند متعصب عیسائی ہیں جو اسلاموفوبیا کا شکا ر ہیں۔ جی ایسا نہیں ہے اس کے محرکات کچھ اور ہے۔ دکھایا کچھ جاتا ہے اور مقاصد کچھ اور حاصل کیے جاتے ہیں۔ امریکہ اور کینیڈا میں اسلاموفوبیا کا پرچار کرنے والے وہ گروپ اور تنظیمیں ہیں جو اسرائیل کے لیے کام کر رہی ہیں وہ ایسے تمام گروہوں کو سرمایہ فراہم کر رہی ہیں جو اسلام دشمنی اور تعصب کے پرچار کا کام کرتے ہیں۔ان تنظیموں نے نا ئین الیون کے واقعہ کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا اور مسلمانو ں کے خلاف نفرت اور خوف کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور وہاں کے معاشروں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ اگر ان کا راستہ نہ روکا گیا تو پھر سب لوگ مسلمانوں کے رحم وکرم پر ہوں گے۔ کینیڈا کے وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس قسم کے اقدامات اٹھائیں گے جس سے ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے، اللہ کرے ایسا ہی ہو مگر اسلام کے خلاف جس منظم انداز میں کام ہو رہا ہے اسے روکنے کے لیے سب حکومتوں کو مل کر کام کرنا ہو گا اور ان عناصر کا قلع قمع کرنا ہو گا جو اظہار رائے کی آڑ میں اسلام اور مسلمانو ں کے خلاف نفرت کا پرچار کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں