79

اسرائیلی فورسز نے الجزیرہ کی خاتون رپورٹر کو کئی گھنٹے تک حراست میں رکھا

سرائیلی فورسز نے الجزیرہ چینل کی خاتون صحافی کو کئی گھنٹے تک حراست میں رکھنے کے بعد رہا کردیا۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق الجزیرہ کی خاتون صحافی فلسطینیوں کے احتجاج کی کوریج کررہی تھیں جب انہیں حراست میں لیا گیا، یہ فلسطینی مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں یہودی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینی خاندانوں کو بے دخل کیے جانے پر احتجاج کررہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق خاتون صحافی گیوارا بودیری کو اسرائیلی فورسز نے شیخ جراح کے علاقے سے حراست میں لینے کے کئی گھنٹوں کے بعد رہا کردیا، انہوں نے حفاظتی جیکٹ پہن رکھی تھی جس پر انگریزی میں پریس (PRESS) کے الفاظ واضح طور پر نظر آرہے تھے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فورسز نے چینل کے کیمرا مین کو فراہم کیے گئے آلات کو شدید نقصان پہنچایا۔

الجزیرہ کے مقامی بیورو چیف ولید عمرے کے مطابق رہائی کے بعد گیوارا کو بازو ٹوٹنے کی وجہ سے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ گیوارا بودیری شیخ جراح سے مستقل رپورٹنگ کررہی تھیں۔

الجزیرہ کے مقامی بیورو چیف کا کہنا تھا کہ شیخ جراح کے علاقے میں چینل کی صحافی فلسطینیوں کے احتجاج کی کوریج کررہی تھیں جب ان سے اسرائیلی فورسز نے ان کا آئی ڈی کارڈ طلب کیا جس پر صحافی نے انہیں کہا کہ وہ ڈرائیور کو کال کردیتی ہیں کیوں کہ ان کا آئی ڈی کارڈ کار میں موجود ہے۔

ولید عمرے کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی فورسز نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا اور ان پر چیخنا اور انہیں زد و کوب کرنا شروع کیا جبکہ ایک موقع پر اسرائیلی فورسز نے ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑی لگائی اور انہیں پولیس کی گاڑی میں دھکیل دیا۔

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ انہیں ہتھکڑی لگائی گئی ہے اور انہیں پولیس نے گھیر رکھا ہے، علاوہ ازیں ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ صحافی کی نوٹ بک کو ان سے چھینا گیا جس پر صحافی کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ‘بس بہت ہوا’۔

الجزیرہ کے بیورو چیف کا مزید کہنا تھا کہ خاتون صحافی کے پاس اسرائیلی حکومت کا جاری کردہ اجازت نامہ موجود ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی پولیس کے مطابق خاتون صحافی کو آئی ڈی کارڈ نہ دیکھانے اور پولیس افسر کو دھکا دینے پر حراست میں لیا گیا تھا۔

علاوہ ازیں واقعے کے بعد موقع پر موجود کیمرا مین اورین ویز کا کہنا تھا کہ خاتون صحافی کو اسرائیلی پولیس نے ان کا کارڈ لانے کی اجازت نہیں دی تھی اور انہیں حراست میں لے کر پولیس کی گاڑی میں منتقل کر دیا گیا جس کے سیاہ شیشے تھے۔

بعد ازاں الجزیرہ کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل مصطفیٰ سوآگ نے اسرائیلی فورسز کی مذکورہ کارروائی کی مذمت کی اور کہا کہ ‘ہمارے صحافیوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنانا تمام بین الاقوامی کنوینشنز کی خلاف ورزی ہے’۔

الجزیرہ کے مقامی بیورو چیف ولید عمرے نے مزید کہا کہ ‘بیت المقدس میں اسرائیلی فورسز صحافیوں کو نشانہ بنا رہی ہیں کیوں کہ وہ شیخ جراح میں ہونے والے واقعات کی کوریج نہیں دیکھنا چاہتے’۔

شیخ جراح کا تنازع کیا ہے؟

خیال رہے کہ حالیہ کچھ ماہ میں مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کے علاقے شیخ جراح میں یہودی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرکے ان پر قبضہ کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور اس دوران اسرائیلی فورسز کی جانب سے یہودی آباد کاروں کی مدد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ رمضان المبارک کے ماہِ مقدس کے مہینے میں شیخ جراح میں اسی طرح کی کشیدگی دیکھی گئی تھی جبکہ اس ماہ مبارک میں اسرائیلی فورسز نے مسجد الاقصیٰ میں کارروائی کرتے ہوئے سیکڑوں فلسطینیوں کو زخمی کردیا تھا۔

اسرائیلی فورسز کی جانب سے فلسطینیوں پر حملوں کا آغاز 7 مئی کی شب سے شروع ہوا تھا جب فلسطینی مسجد الاقصیٰ میں رمضان المبارک کے آخری جمعے کی عبادات میں مصروف تھے اور اسرائیلی فورسز کے حملے میں 205 فلسطینی زخمی ہوگئے تھے، جس کے بعد اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے میں فضائی حملے بھی کیے تھے جو 11 روز تک جاری رہے۔

ان حملوں میں غزہ کے بیشتر حصے کا انفرا اسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہوا اور اسرائیلی فورسز نے حملوں میں کئی ایسی عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا جہاں میڈیا کے دفاتر موجود تھے جبکہ ہلال احمر قطر کی عمارت کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔

اسرائیل کے مذکورہ حملوں سے متعلق غزہ کی وزارت صحت نے بتایا تھا کہ 11 روز تک جاری رہنے والی اسرائیلی فضائیہ کی کارروائیوں میں جاں بحق افراد کی تعداد ڈھائی سو سے زائد تھی جن میں سیکڑوں بچے اور خواتین بھی شامل تھیں جبکہ زخمیوں کی تعداد ہزاروں میں تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں