31

آئی ایم ایف معاہدے کے باوجود ڈالر کی قدر بڑھ کر 211 روپے ہوگئی

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ پاکستان کو قرض پروگرام کی بحالی کا معاہدے طے پانے کے باجود انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر ایک روپے 15 پیسے کم ہو کر 210 روپے 95 پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق گزشتہ روز ڈالر 209.80 پیسے پر بند ہوا تھا، آج روپے کی قدر میں 0.55 فیصد کمی ہوئی، جس کے بعد ڈالر 210 روپے 95 پیسے کی سطح پر بند ہوا۔

میٹس گلوبل کے ڈائریکٹر سعد بن نصیر نے ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی کو بتایا کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کی وجہ سے مارکیٹ میں کچھ اعتماد آیا، صبح مارکیٹ اوپن ہونے کے بعد روپے کی قدر میں اضافہ ہوا تھا اور ڈالر 208 روپے 50 پیسے کی سطح تک ٹریڈ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ تاہم بینکوں میں ادائیگیوں کے بعد سے ڈالر کی فروخت شروع ہوئی، زرمبادلہ کے کم ہوتے ذخائر، ترسیلات زر اور برآمدات کی مد میں خاطر خواہ رقم نہ آنے کے سبب ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوا، جب تک زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم نہیں ہوں گے یہ صورتحال برقرار رہے گی۔

دوسری جانب ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل ظفر پراچا نے بتایا کہ معیشت کے لیے آج بھی اچھا دن ثابت نہیں ہوا، انٹر بینک میں غیر متوقع طور پر ڈالر 2 سے ڈھائی روپے بڑھ گیا، ایک موقع پر ڈالر 208.20 روپے کی سطح تک آگیا تھا تاہم دوبارہ بڑھ کر 211 روپے پر بند ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ جمعہ کے دن کی وجہ سے مارکیٹ جلدی بند نہ ہوتی تو شاید ڈالر کی قدر میں ایک سے ڈیڑھ روپے اور اضافہ ہو جاتا، ڈالر کے اضافے کی وجہ سمجھ نہیں آئی، خیال کیا جارہا تھا کہ ڈالر 3،4 روپے تک نیچے آئے گا کیونکہ آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول کا معاہدہ ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈالر کی قدر میں اضافے کی اہم وجہ بینکوں کی جانب سے سٹے بازی ہے، ایسا لگتا ہے کہ بینکوں نے روپے کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی چھوٹی کمپنی کا حصص بنا دیا ہے، جو دو روپے نیچے، تین روپے اوپر اور کبھی اس کی قیمت چار روپے گر جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ سے عالمی سطح پر پاکستان کا برا امیج جارہا ہے، خاص طور پر بیرونی سرمایہ کار اس صورتحال سے دلبرداشتہ ہیں کہ کبھی وہ ڈالر 190 روپے میں کیش کرواتے ہیں اور نفع 210 روپے میں لے کر جاتے ہیں، وہ جتنا بھی نفع کما لیں، نقصان میں رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی بھی اس صورتحال سے خوش نہیں ہیں، ڈالر کی قدر 210 کی ہو یا 180 روپے کی، اس کی قدر مستحکم رہنی چاہیے، اس خراب صورتحال میں حکومت کا بھی کوئی کردار نظر نہیں آتا، پہلے ایسی صورتحال میں حکومتی ادارے فوراً صورتحال کا جائزہ لیتے تھے، ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی توجہ نہیں ہے یا اس کی رضامندی شامل ہے، اگر یہی صورتحال رہی تو لوگ ملک میں سرمایہ کاری کرنے سے کترائیں گے۔

Leave a Reply